جمعرات، 15 اگست، 2013

یہ کس کا لہو ہے کون مرا

5 comments
ٹیلی ویژن کی سکرین پر جلتی لاشیں،گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور آنسو گیس کے دھوئیں نے ایک سوگوار منظر طاری کر رکھا تھا۔ معصوم لاشے،تڑپتے بدن، جلتے خیمے،نہتے مردوزن کے مقابل جدید ہتھیاروں سے لیس فوجی اپنے نشانے آزماتے رہے. خون کی ندیاں بہتی رہیں ۔ بچے بوڑھے اور جوان مردو خواتین کٹ کٹ کے گرتے رہے ۔ یہ منظر کشمیر ، افغانستان یا فلسطین کا نہیں بلکہ مصر کے شہر قاہرہ کی مشرقی سمت میں واقع میدان رابعہ العدویہ کا ہے ۔ جہاں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے مظاہرین پر مصر ہی کی فوجی جنتا کے "شیر دل" جوانوں نے...

بدھ، 14 اگست، 2013

لہلہاتی رہے یہ دھرتی

2 comments
لفٹی چاچاہمارے شہر میں کب آیامجھے یہ تو معلوم نہ ہو سکا لیکن ا س کے ہاتھوں کے بنے دہی بڑھے بچوں اور بڑوں کی مرغوب غذا تھی۔سکول کے راستے میں بنی ا س کی دکان ہمیشہ ہمارے قدموں کی زنجیر بن جاتی اور بڑی بے چینی سے ہم بریک ٹائم کا انتظار کرتے کہ کب ہم لفٹی چاچاکے ہاتھوں کے بنے چٹ پٹے دہی بڑھے کھانے جا پہنچیں۔لفٹی چاچایوں تو بڑا ہنس مکھ بندہ تھا، من کا سچا ،سبھی سے پیار کرنے والا۔لیکن جانے اسے کبھی کبھار کیا دورہ پڑ جاتاکہ جلدی کا شور مچانے والے بچوں پر برہم ہو جاتا۔اور اس دن تو حد ہی...

بدھ، 7 اگست، 2013

یہی پیغامِ عید ہے

3 comments
عید الفطر کی مبارک ساعتیں لمحہ بہ لمحہ قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی ہیں۔اللہ رب العزت بندوں کومزدوری دینے میں قطعی دیر نہیں لگاتے۔ ادھر ان کی ایک مہینے کی تربیت کے مراحل ختم ہوئے، ڈیوٹی پوری ہوئی اور اِدھر عید الفطر، انعام یایوں کہیے کہ مزدوری کی شکل میں ہمارے ذہن وفکر پر مسرتوں کا نغمہ گانے لگی۔یہ عید واقعتاً ان لوگوں کے لیے عید ہے جو رمضان کے فیوض و برکات سے فیض یاب ہوئے۔عیدکا دن ان روزہ داروں کے لیے خوش خبری کا دن ہے جنہوں نے اس ماہ مبارک میں عبادت کی، اپنے رب کو راضی کیا اور اس کے بدلے...

................................................................................

................................................................................
.