بدھ، 25 جون، 2014

ماہِ مبارک

3 comments
اس کے قدموں کی چاپ دل کی دھڑکن کی طرح ٹھک ٹھک کرتی قریب سے قریب تر ہورہی ہے، وہ جو گزشتہ برس "دکھی" ہو کے چلا گیا تھا ایک بار پھر سے اپنی "رحمتوں" کے جام لڈھانے آرہا ہے،محبت سے پکارتے ہوئے، ایک آس لئے، اپنے بھرے دامن کے ساتھ ، بہت کچھ لٹانے کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن دکھ تو اس بات کا ہے کہ وہ جنہیں بہت کچھ دینے کو آتا ہے وہ منہ لپیٹے پڑے رہتے ہیں اور وہ جو بہت کچھ لٹانے آتا ہےوہ سب کچھ لئے پھر سے لوٹ جاتا ہے، وہ جو ہر سال آتا ہےاس سال بھی قریب سے قریب تر ہوتا جا رہا ہےآئیے اس کی دستک کی آواز کو سنیں،...

جمعرات، 19 جون، 2014

ایک سال بیت گیا

5 comments
دن ہفتوں ،مہینوں اور مہینوں کو سالوں میں ڈھلتے دیر ہی بھلا کتنی لگتی ہے،19 جون 2013 سے 19 جون 2014 میرے بلاگ کو ایک سال مکمل ہوا ابھی کل ہی کی تو بات ہےدوسروں کو بلاگنگ کرتے ہر طرف بلاگنگ کا شور سنتے ہم نے سوچا ہم کیوں پیچھے رہ جائیں ،سو ہم نے بھی شغل ہی شغل میں بلاگ بنا ڈالا، بلاگ بناتے وقت یہ تو سوچا ہی نہیں تھا کہ یہ "گلے کا ڈھول" بھی بن جائے گا جسے "بجانا" بھی پڑے گا لیکن اب کیا کیا جائے جب "ڈھول" گلے میں لٹکا ہی لیا تو پھر شرمانا کیسا سو ہم بھی لگے رہے ڈھول بجتا رہا اور اس کی "تھاپ"...

منگل، 3 جون، 2014

پہاڑی کا چراغ

3 comments
ایک ایسے دور میں جب لوگ کہیں لگی ہوئی آگ کو بجھانے کی بجائے اس کی فوٹیج بنانے، کسی ڈوبتے کو بچانے کی بجائے اس کی ویڈیو بنانے اور گرتی نعشوں کو سنبھالا دینے کی بجائے ان کی تصویریں بناتے پھرتے ہوں تو ایسے میں اگر کوئی شخص ایک بچے کو بچانےکیلئے اپنے آپ کو دریا کی موجوں کے حوالے کر دے تو یقیناً یہ بات اس پر صادق آتی ہے کہ وہ شخص تو "پہاڑی کا چراغ" ہے جو خود تو جلتا ہے اور جلتے جلتے اس کی زندگی تمام ہوجاتی ہے لیکن دوسروں کیلئے نشانِ منزل چھوڑ جاتا ہے میں نے مظفر آباد میں دو نوجوانوں کو دریائے نیلم...

................................................................................

................................................................................
.