‏انسان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏انسان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 2 جون، 2015

اٹل حقیقت

1 comments

سادگی کے ساتھ زندگی بسر کرتے اسے ایک عمر گزر گئی محنت و مشقت تو اس کی "گھٹی" میں "رچی بسی" تھی، اپنے ہاتھوں سے برتن بنانا آباؤ اجداد سے اس کا پیشہ چلا آرہا تھا،اس کے بیٹے گاؤں کی زندگی ترک کرکے شہر میں جابسے لیکن اس نے گاؤں چھوڑنے سے انکار کر دیا کہ بس"جینا مرنا" یہیں ہو گا، محنت مشقت کےعادی اس شخص کی صحت بھی بلا کی تھی "خشک روٹیاں" کھا کے 80 سال کی عمر میں بھی جوان دِکھتا تھا،عجیب سادہ آدمی تھا زندگی کی 80 بہاریں گزار دیں لیکن کبھی گاڑی میں سفر نہیں کیا اس خوف سے کہ گاڑیوں کے ایکسیڈنٹ میں لوگ مر جاتے ہیں،
"تایا جان" اس کا تذکرہ کر رہے تھے اور میں کمال حیرت سے ان کی باتیں سنے جا رہا تھا کیا آج کے دور میں بھی ایسا ممکن ہے کہ کوئی پیدل سفر کو گاڑی پہ سفر کرنے پہ ترجیح دے لیکن مجھے بتایا گیا کہ وہ تو 30 میل دور بسنے والی ہمشیرہ سے ملنے بھی ہمیشہ "پیدل" ہی چل دیتا تھا ،اور کل صبح بھی ہمشیرہ سے ملنے کیلئے گاؤں سے پیدل نکل کھڑا ہوا۔ کوئی تین میل ہی چلا تھا کہ پرانے "گرائیں" غلام نبی سے ملاقات ہوگئی اور جب دو دیوانے یار مل بیٹھے تو روڈ کنارے ہی محفل سجا لی باتوں ہی باتوں میں وقت گزرنے کااحساس ہی نہ ہوا اور فرشتئہ اجل آپہنچا روڈ سے گزرنے والی کار کا ٹائر نکلا اور گاڑی "مست اونٹ" کی طرح "جھومتی" ان دونوں لنگوٹیوں سے آٹکرائی۔ "جمعہ خان" جو کبھی موت کے خوف سے گاڑی پہ سوار نہ ہوا تھا گاڑی ہی کی ٹکر سے داعیِ اجل کو لبیک کہہ گیا اور اس کا "لنگوٹیا" یار موت وحیات کی کشمکش میں ہسپتال جا پہنچا۔ موت کے خوف سے گاڑی میں سوار نہ ہونے والا "چاچا جمعہ خان" اس بات سے بے خبر رہا کہ موت تو انسان کے سائے کی طرح ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے جو ایک اٹل حقیقت ہے اور جس سے فرار ممکن نہیں۔ 
بے شک سچ فرمایا اللہ ب العزت نے
اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یُدۡرِکۡکُّمُ الۡمَوۡتُ وَ لَوۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ بُرُوۡجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ 
تم جہاں کہیں (بھی) ہوگے موت تمہیں (وہیں) آپکڑے گی خواہ تم مضبوط قلعوں میں (ہی) ہو(سورۃ النساء  آیت 78)

پیر، 24 فروری، 2014

جواب ایک سوال کا

4 comments

ایک بچہ جو اس دنیا میں قدم رکھتا ہے ،ایک ننھی کونپل پھوٹتی ہے اسے ایک تناور درخت بننے تک ایک ایک لمحہ رب ذوالجلال اس کیلئے اس کی ماں کے دل کو محبت اور شفقت سے لبریز کر دیتا ہے،دن مہینوں اور مہینے سالوں میں بدلتے چلے جاتے ہیں لیکن دن ہوں یا سال یہ لمحے ہی تو ہوتے ہیں گزرتے کیا دیر لگتی ہے،پہلے وہ بچہ ایک ذمّہ داری تھا لیکن اب وہ ایک ذمّہ دار بن جاتا ہے،اب وہ ایک ہوش مند انسان ہے اپنا برا بھلا سمجھ سکتا ہے، کھرے کھوٹے میں تمیز کرنا اب اس کیلئے کوئی مسئلہ نہیں، کوئی چیز قبول کرنا یا اسے مسترد کرنا اب اس کی بصیرت اور بصارت کا پتہ دیتی ہے، لیکن اس سب کچھ کے باوجوداسے خالق یونہی تنہا تو نہیں چھوڑ دیتا۔ہر لمحہ اس کی راہنمائی اور ہدایت کا انتظام ہوتا ہے،کوئی چیز اس کی نگاہوں سے اوجھل نہیں رہنے دی جاتی، جہاں صلاحیّتیں عطا ہوتی ہیں وہیں وسائل سے بھی مالامال کردیا جاتا ہے،مہلت ملتی ہے، میدان ہموار کئے جاتے ہیں،مواقع عطا ہوتے ہیں قدم قدم پر راہنمائی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اور تو اور خالق خود اس سب کچھ کا اہتمام فرماتا ہے۔
اسے تنہا نہیں چھوڑا جاتا بلکہ ایک ہمدم ایک راہنما تو ہر دم ساتھ ہوتا ہے جو ہر قدم کو دیکھ رہا ہوتا ہے،
قدم غلط اٹھیں تو نشاندہی کرتا ہے۔۔۔۔۔قدم پکڑلیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔،ٹوکتا ہے۔۔۔۔۔، روکتا ہے۔۔۔۔۔سمجھاتا ہے۔۔۔۔۔ بچاتا ہے۔۔۔۔۔سامنے آجاتا ہے
ناکام ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر بھی مایوس نہیں ہوتا
رد کردیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر بھی ساتھ نہیں چھوڑتا
رفاقت کا حق ادا کردیتا ہے
حسّاس ایسا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے اپنا دل
قریب اس قدر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے اپنی دھڑکن
دنیا کی کوئی زبان اس کے ذکر سے خالی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتابیں اسے ضمیر کہتی ہیں
ذرا سوچئے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان اس کے بغیر کتنے حقیر ہوتے ہیں
ایسے رہبر۔۔۔۔۔ ایسے ہمراز۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔ ایسے رازدار کے ہوتے ہوئے
قدم بھٹک کیوں جاتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
آپ بھی سوچیں ۔۔۔۔۔ یہ آپ کی بات ہے
اور ایسا جب بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ انسان ایک سوال بن کر رہ جاتا ہے
تو سوال آپ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب آپ کی زندگی ہے
کسی دن ذرا رکئے اوردیکھئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ جواب آپ کو اچھا لگ رہا ہے؟؟؟؟ 

................................................................................

................................................................................
.