‏بلاگر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏بلاگر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 25 نومبر، 2014

ایک خوبصورت دن

10 comments
جماعت اسلامی پاکستان کے اجتماعِ عام میں شرکت کا پروگرام بنا تو بہت سے دوستوں کے ساتھ ملاقات کا پروگرام بھی ساتھ میں ہی ترتیب پا گیا،لاہور پہنچتے ساتھ ہی جو لاگ ان ہوا تو پہلا پیغام محترم بھائی مصطفٰی ملک کا موصول ہوا مجھے کال کیجئے آپ کا نمبر نہیں مل رہا اور پھر جونہی میں نہ کال ملائی اور یوں تھوڑی دیر بعد ہی ملک صاحب سے سوشل میڈیا کیمپ میں ملاقات ہو گئی۔
 
ملک صاحب بار بار بتا رہے تھے"یار او بلال آریا وا" اور میں سمجھ  نہیں پا رہا تھاکہ ملک صاحب کس "بلال" کا ذکر کررہے ہیں۔لیکن مغرب کے بعد جب سفید رنگ کی "نگوں والے بٹن" لگی قمیض شلوار میں ملبوس نوجوان کی قیادت میں اردو بلاگرز کا ایک گروپ سوشل میڈیا کیمپ میں داخل ہوا اورجومیں آگے بڑھ کر ملا تو ملک صاحب نے تعارف کا فریضہ سرانجام دیا
یہایم بلال ہیں اور پھر میں تو گویا خوشی کے مارے اچھل ہی پڑا پاک اردوانسٹالر کے موجد ایم بلال ایم میرے سامنے تھے ان کا شکریہ ادا کرنے کیلئے الفاظ نہیں تھے میرے پاس کہ ان کی بدولت ہمیں کمپیوٹر پر ہر جگہ اردو لکھنے کی سہولت میسر آئی،ان کے ساتھ ملنسار اورہنس مکھ سے کاشف نصیرہیں۔ اور ارے میں نے تو انہیں پہچانا ہی نہیں مجھے ملتے ہی آنکھوں میں شرارت سجائےکہنے لگے دیکھنا باوا بھی یہیں لاہور میں ہوتا ہے جی ہاں تو یہ ہیں کراچی سے تشریف لائے وقار اعظم ۔اور یہ "ننھا منّا" سا لڑکا جوکبھی "غیث المعرفہ" ہوتا ہے تو کبھی غلام اصغر ساجد بلاشبہ قابلِ قدر بھی ہے توایک اچھا لکھاری بھی، اور یہ بانکا سجیلا جوان مفکروں کی طرح ناک پہ چشمہ ٹکائے کون ہے بھلا معلوم نہیں اب نظر کی کمزوری ہے یا مفکر نظر آنے کا شوق لیکن چشمہ تو بہر حال خوب سجا  :)  محمد عبداللہ ہیں یہ .تصویر بنواتے وقت جھٹ سے کرسی پہ "دولہا میاں" بنے بیٹھے یہ ہیں عاطف بٹ۔ اوریہ نٹ کھٹ سا نوجوان اپنے آپ کو رضی اللہ خان بتاتا ہے، اور یہ ہیں محمداسد اسلم جنہوں نے یہ فوٹو پوسٹ کرنے کے بعد مجھے فرینڈ ریکوسٹ بھیجی جو ابھی ابھی میں نے قبول بھی کرلی ۔غرض یہ ایک شاندار دن تھا جب بہت سے بلاگر مل بیٹھے۔ ملک صاحب نے تو خدمت سے معذرت کر لی کہ اب یہاں کہاں سے چائے پانی آئے لیکن جماعت اسلامی کے مرکزی ناظم آئی ٹی شمس الدین امجد اور ناظم آئی ٹی پنجاب میاں محمد زمان نے کمال محبت سے تمام بلاگرز کیلئے ریفریشمٹ کا اہتمام کیا اور جو میں وہاں سے اٹھ کے محترم بھائی فیض اللہ خان کے پاس آیا تو کسی نے میرے حصّے کی ریفریشمنٹ بھی ہضم کرلی ظالموجس نے بھی وہ کھایاہے ناں مجھے معلوم ہے وہ اگر نام بتا دیا ناں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 7 اگست، 2014

سِکھوں کے گنے،طالب علم اور فیس بک کا لائک

1 comments
لوگوں کے سکھوں کے بارے میں لطیفے سن سن کر اور سکھوں کے بے وقوف ہونے کی باتیں کرتے دیکھ کر سکھ برادری سر جوڑ کے بیٹھی اور اس بات  پر سوچ بچار شروع ہوئی کہ کوئی ایسا کام یا کارنامہ سرانجام دیا جائے کہ لوگوں پر عقل مند ہونے کی دھاک بیٹھ جائے، برادری کے سرپنچوں نے طرح طرح کے مشورے دئیے، کافی بحث ومباحثہ ہوا اور طے یہ پایا کہ علاقے کے لوگوں کی بہتری کیلئے ایک سکول بنایا جائے جہاں بچوں کی مفت تعلیم کا بندوبست ہو مشورہ دینے والے کی خوب واہ واہ ہوئی اور اس سے پہلے کہ اجلاس برخواست ہوتا ایک "عقلمند سکھ" نے سوال کر ڈالا یہ سکول بنے گا آخر کہاں اور پھر یہ بات بھی طے ہوگئی کے علاقے کے ایک تگڑے "زمیندار سکھ" نے سکول کیلئے زمین دینے کا اعلان کر دیا ابھی اجلاس ختم ہوا ہی تھا اور سردارلوگ اپنے گھروں کو روانہ ہونے ہی کو تھے کہ ایک اور سرپنچ کے ذہن میں معلوم نہیں کیسے یہ بات آگئی کہ آخر زمین بھی مل ہی جائے گی لیکن سکول کی بلڈنگ بنانے کیلئے ایک اچھی خاصی رقم درکار ہو گی تو یہ بندوبست بھی کر کے ہی جایا جائے اور بالآخر سردار آپس میں سر جوڑے سکول کی تعمیر کیلئے فنڈ کے انتظامات کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے کہ درمیان میں ایک اور مسئلہ پیدا ہوگیا، گاؤں کے ایک بااثر سکھ نے دہائی دی کہ سردارو تم سکول تو بنا ہی لو گے لیکن دریا کے اس پار جو ہمارے مخالفین کا گاؤں ہے ناں ان کے بچے بھی اس سکول میں لازمی ایڈمشن لیں گے کیونکہ ہم سکول میں کسی کو بھی داخلہ لینے سے منع کرنے سے تو رہے اور اگر وہ یہاں سکول میں پڑھنے آئیں گے ناں تو تو واپسی پر ہمارے کماد کے کھیتوں سے گزرتے ہوئے گنے ضرور توڑ کے لے جائیں گے اور اس طرح ہماری فصل کا تو ستیا ناس ہو جائے گا سرپنچوں کے سربراہ نے فیصلہ دیا کہ سکول بنانے سے پہلے اس گاؤں کے بچوں سے نمٹ لیا جائے جو ہماری فصلوں کے دشمن بن کر ان کی تباہی کا سامان کریں ان کی خوب ٹھکائی ہونی چاہئیے۔ تمام سکھ کرپانیں سجائےدریا پار کے گاؤں پر حملہ آور ہوئے اور بچوں کا مار مار کر بھرکس نکال دیا جو بچانے کو آئے تو ان کو بھی خوب پھینٹی لگائی عورتوں نے ہاتھ جوڑے کہ آخر بتاؤ تو سہی ہم سے کیا غلطی ہو گئی  تو سکھوں کے لیڈر نے ترنگ میں آکر کرپان لہرائی اور کہا
 " ہور چوپو گنے"

بس جی ہم بھی فیس بک پر ایک سٹیٹس کو لائک کر کے "گنے چوپنے" کا مزہ کیا لے بیٹھے کہ اب "سرداروں" سے ہماری چھترل ہو رہی ہے، اور یار لوگ ہمیں دیکھتے ہی کہتے ہیں "ہور چوپو گنے"
نوٹ:اس پوسٹ کو کسی خاص پسِ منظر میں ہرگزنہ لیاجائے،ایسا کرنے والا نتائج کا خود ذمہ دار ہوگا
پنجابی سے اردو ترجمہ ہو چوپو (اور چوسو) ـــــــــــ گنے (گنڈیری)

................................................................................

................................................................................
.