ہفتہ، 4 جنوری، 2014

میرے راہنماﷺتیرا شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

8 comments

ربیع الاوّل کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف درودوسلام کی بہار آجاتی ہے، کہیں سیرت کے جلسے منعقد ہو تے ہیں تو کہیں محافلِ نعت کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اور پھر ربیع الاوّل کے رخصت ہونے کے ساتھ ہی یہ ساری باتیں ہوامیں تحلیل ہوجاتی ہیں۔ سیرتِ رسولﷺ کے جلسے ہوں ، نعت رسولﷺکی پر نور محافل ہوں یا سیرت رسولﷺکانفرسوں کا انعقاد ان سب کی اہمیّت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ محض ایک مہینہ یا کچھ دنوں کیلئے سیرت رسول ﷺکی محافلوں کا انعقاد کر کے، نعت رسول ﷺکی محافل سجا کے یا عشقِ رسولﷺکے نعرے لگا کر جناب نبی کریمﷺکی قربانیوں اور محنتوں کا حق ادا کر سکتے ہیں۔ انﷺکی قربانیوں کو یاد کیجئے ،آج ہم 1500 سال بعد ہزاروں میل دور مسلمان ہیں تو اللہ کے فضل کے بعد آپﷺکی قربانیوں کی نتیجے میں ہیں۔ ذراچشمِ تصوّر میں وہ منظر لائیے کہ لوگوں کو دعوت وتبلیغ سے دن بھر کے تھکے ہارے جناب نبی اکرمﷺگھر لوٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے ایک قافلہ مکہ میں آکر ٹھہرا ہے، تو اسی وقت پھر اپنے گھر سے نکل کھڑے ہوتے ہیں کہ کہیں رات میں وہ قافلہ کہیں آگے کو کوچ نہ کر جائے اور دینِ اسلام کی دعوت سے محروم نہ رہ جائے، ذرا سوچئے ممکن ہے ہم تک اسلام کی یہ دعوت اسی قافلے کے کسی فرد کے ذریعے پہنچی ہو جس کو آپﷺنے دن بھر کی تھکان کے باوجود جا کر دعوت دی،اپنے اندر اس احساس کو پیدا کیجئے کہ نبی اکرم ﷺنے جتنی قربانیاں دیں ان کا ڈائریکٹ احسان ہم پر ہے، اب اس احسان کے بدلے میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟؟؟؟
حضورﷺسے محبت ہمارے ایمان کا جز ہے اور محبت کی منجملہ علامات میں سے یہ ہے کہ تمام معاملات میں حضورﷺ کی اتباع کی جائے، قرآن کریم سے محبت ، تلاوت ،اور اس کا فہم حاصل کیا جائے، آپ ﷺکی احادیث کا مطالعہ کیا جائے، آپﷺ کی سنت اور طریقہ پر عمل کیا جائے، آپ ﷺکی سیرت اور شمائل کو اپنایا جائے، آپﷺسے ملنے کا اشتیاق ہو، آپ ﷺکا ذکر خیر کثرت سے کیا جائے، آپﷺپر درود پڑھا جائے آپﷺکو تو جو اجر ملنا ہے وہ تو ملنے والا ہے ہی لیکن اگر ہم ان ﷺپر درود وسلام بھیجتے ہیں تو اس کا ثواب بھی ہمارے ہی لئے ہے، محمدﷺنے ہمیں جو درود سکھایا ہے یہ ہمارے لئے اعزاز ہے کہ ہم ان کیلئے دعا کریں اللہ کے رسولﷺتو افضل الانبیاء اور سب سے بہترین انسان ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو سیرت رسولﷺکے مطابق ڈھالیں اورسیرت رسولﷺسے عملی وابستگی اختیار کریں،حُبِّ رسولﷺکا تقاضا یقیناً یہ بھی ہے کہ انسان کی شکل و صورت اور وضع قطع ایسی ہو جیسی آقائے دو جہاںﷺکی تھی لیکن سچ یہ ہے کہ اس سے زیادہ ضروری بات اس اندازِ فکر اور لائحہ عمل کو اپنا لینا ہے جسے اسلام کا فلسفہ زندگی کہا جاتا ہے کیونکہ قرآن کی رو سے انسان کا اصل لباس اس کا تقویٰ ہے۔ یا کم از کم یہ بات تو بہرحال ضروری ٹھہرتی ہے کہ جو شخص وضع قطع میں مسلمان ہو اس کے کردار اور سیرت میں اسلام کے اصولوں کی جھلک اور چمک بھی ضرور نظر آنی چاہئے۔
ان مقدس لوگوں کے مقابلے میں جو ہر لحاظ سے خلافتِ ارضی کے مستحق تھے ہمارا حال کیا ہے؟ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺکے ہر حکم کو ڈھٹائی سے توڑتے ہیں اور قریب قریب ہر معاملے میں بغاوت کا علم بلند کیے ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں انتہائی شرمناک صورت یہ ہے کہ عمل کے میدان میں ان حضرات کا حال بھی قوم کے جہلا سے مختلف نہیں جو حُبِّ رسولﷺکے دعویدار اور اسلام کو اپنا اوڑھنا بچھونا ثابت کرنے پر اصرار کرنے والے ہیں۔اور آج بحیثیّت ملّت ہمارا حال پروفیسر عنایت علی خان کے ان اشعار کے مصداق ہے،



جو جمالِ روئے حیات تھا، جو دلیل راہِ نجات تھا
اسی رہبر کے نقوش پا کو مسافروں نے مٹا دیا

یہ میری عقیدت بے بسر ،یہ میری ریاضت بے ہنر
مجھے میرے دعویٰ عشق نے نہ صنم دیا نہ خدا دیا

تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی
میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے در و بام کو تو سجا دیا

میں تیرے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا
تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا

تیرا نقش پا تھا جو راہنما تو غبارِ راہ تھی کہکشاں
اسے کھو دیا تو زمانے بھر نے ہمیں نظر سے گرا دیا

میرے راہنما تیرا شکریہ کروں کس زباں سے بھلا ادا
میری زندگی کی اندھیری شب میں چراغِ فکر جلا دیا

تیرے ثور و بدر کے باب کے میں ورق الٹ کے گزر گیا
مجھے صرف تیری حکایتوں کی روایتوں نے مزا دیا

کبھی اے عنایتِ کم نظر !تیرے دل میں یہ بھی کسک ہوئی
جو تبسم رخِ زیست تھا اسے تیرے غم نے رلا دیا

جمعرات، 26 دسمبر، 2013

فیس بک اور ٹویٹر پراردو نستعلیق فانٹ میں

6 comments
فیس بک اور ٹویٹر پر اردو لکھتے اور پڑھتے ہوئے اس کا عجیب وغریب "تاہو" فانٹ میں نظر آتی ہے جو پڑھنے اور دیکھنے میں بالکل بھی بھلی نہیں لگتی اور بے اختیار جی چاہتا ہے کہ کاش یہ اس انداز میں نظر آئے جیسے ہم کتابوں میں لکھا ہوا دیکھتے ہیں تو قارئین اب یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا۔اردو کی شبانہ روز ترقی کیلئے کوشاں ہمارے محترم بھائی محمد بلال محمود نے اس مسئلے کو بہت خوبصورت انداز میں حل کر دیا جنہوں نے پہلے تو شائقین اردو کیلئے کمپیوٹر پر ہر جگہ اردو لکھنے اور پڑھنے کیلئے پاک اردو انسٹالر کے نام سے سافٹ وئر تیار کرکے ہم جیسے طالب علموں کیلئے گراں قدر خدمت سرانجام دی اور پھر فیس بک اور ٹویٹرکے استعمال کنندگان کیلئے اردو نستعلیق پلگ ان اور سکرپٹ کی تیاری کے ذریعے ایک عظیم کارنامہ سر انجام دیا ہے 
فیس بک اور ٹویٹر پر سب سے پہلے آپ کے کمپیوٹر پر پاک اردو انسٹالر انسٹال ہونا ضروری ہے جو آپ یہاں سے بآسانی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں،پاک اردو انسٹالر کے ذریعے نہ صرف آپ کے کمپیوٹر پر اردو بہتر انداز میں نظر آئے گی بلکہ آپ اس کی بدولت ہر جگہ آسانی سے اردو لکھ بھی سکیں گے۔اب ایک پلگ ان اور اس کا سکرپٹ انسٹال کرنا ہے سب سے پہلے اس لنک پر جائیں اور وہاں سے تصویر
 میں دئیے گئے طریقہ کار مطابق Stylish پلگ ان انسٹال کریں۔اس پر کلک کرنے کے بعد اپنے براؤزر کی سیٹنگ کے مطابق اسے Add یا Install کر لیں۔ انسٹالیشن مکمل کرنے کے بعد براؤزر کو بند کرکے دوبارہ چلائیں۔ اب دوبارہ اس لنک پر جائیں یہ پہلے والا ہی لنک ہے اگر پلگ ان کامیابی سے انسٹال ہو جائے تو پہلے جہاں Stylish کے انسٹال ہونے کا لنک تھا اب وہاں Install With Stylish ہو گا جس طرح اس تصویر میں نظر آرہا ہے،
 اس بٹن پر کلک کرنے اور اپنے براؤزر کی سیٹنگ کے مطابق Install یا Addکرنے کے بعد آپ فیس بک اور ٹویٹر پر اردو نستعلیق فانٹ میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں گے
بلاگ کی اس پوسٹ کا محرّک بننے والے احباب محمد بلال محمود،عمیر سعود قریشی، مظہر علی اور ہماری محترمہ بہن سکوتِ آگاہی کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے۔

پیر، 16 دسمبر، 2013

حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا ...

15 comments
ماہِ دسمبر شاعروں اور ادیبوں کے نزدیک ہمیشہ سے ہی اداسیوں کا استعارہ رہا ہو گا لیکن میں نے جب سے سنِ شعور میں قدم رکھا دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی ایک عجیب سے بے چینی اور بے سکونی طبیعت میں در آتی ہے،اور اس اداسی اور بے چینی کا تعلق اس ماہ کی 16 تاریخ کو تاریخ کے اس سیاہ ترین دن سے ہے جب مدینہ منورہ کے بعد اس صفحہء ہستی پر اسلام کے نام پر قائم ہونے والی دوسری مملکتِ خداداد کو دو لخت کر دیا گیا۔ قیام بنگلہ دیش کا سانحہ اگر چہ میری پیدائش سے بھی تین سال پہلے کا ہے  لیکن مجھے اس المیے اور دکھ کا احساس اپنی عمر کی پندرہ بہاریں دیکھنے کے بعد اس وقت ہوا جب میں نے سلیم منصور خالد کی کتاب"البدر"اور طارق اسماعیل ساگر کی کتاب "لہو کا سفر"کا مطالعہ کیا۔ 16 دسمبر 1971ء پاکستانی حکام اور عوام کا نظریہ پاکستان کی اسلامی اساس سے دوری اور غفلت کا تازیانہ ہے۔ سقوط ڈھاکہ نے‘ برصغیر پاک و ہند کی مذہبی، سیاسی ،سماجی ،عسکری اور معاشی زندگی میں نہ ختم ہونے والے اثرات مرتب کئے ہیں۔16 دسمبر کا افسوسناک دن ہماری تاریخ کا وہ سیاہ ترین باب لکھ گیاجب سقوط ڈھاکہ کا المیہ پیش آیا.
 سقوط ڈھاکہ کے المیہ میں شیخ مجیب الرحمن، یحیٰی خان، بھٹو اور اندراگاندھی جیسے کرداروں کا جو عمل دخل تھا ان میں مجیب الرحمن اپنے اہل خانہ کے ساتھ قتل ہوگیا. اندراگاندھی کو اس کے سکھ محافظ نے گولی ماردی اور بھٹو کو محمد خان قصوری کے قتل کےالزام میں پھانسی دے دی گئی اور یوں اس دور کے حالات و واقعات کے کئی کردار اپنے انجام کو پہنچ گئے. آج جنرل نیازی اس دنیا میں ہے نہ یحیٰی خان لیکن جب بھی 16 دسمبر کا دن آتا ہے اس دور کے تمام کردار سامنے آجاتے ہیں اور پاکستانی قوم آج بھی اس دن کو یاد کر کے سوگوار ہوجاتی ہے.لیکن اب کی بار دسمبر ایک بار پھر اس انداز میں وارد ہوا ہے کہ ایک بار پھر بنگلہ دیش میں خون کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔نام نہاد "بنگلہ بندھو" شیخ مجیب الرحمٰن جسے اس کے اپنے ہی قریبی ساتھیوں نے بھارتی ایجنٹ ہونے کے الزام میں خاندان سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا تھا کی واحد بچ جانے والی صاحبزادی  بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد اپنے "بھارتی آقاؤں" کو خوش کرنے کیلئے ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے جن کا تصوّر ہی ہولناک ہے۔ بنگلہ دیش میں دینی جماعتوں کے بڑھتی ہوئی مقبولیّت نے بھارت اور بھارتی نواز حکمرانوں کے ہوش اڑا دئے ہیں جس کی وجہ سے وہ اس طرح کے گھناؤنے انتقام پراتر آئے ہیں اور"نورمبرگ"ٹائپ عدالتوں کے ذریعے سے متحدہ پاکستان کی حامی قوتوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا آغاز ہو چکا ہے جس کا پہلا نشانہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نائب امیر عبدالقادر ملا بنے جنہیں 12 اور 13 دسمبر کی درمیانی شب پاکستان سے محبت کے جرم میں پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا۔اس خبر نے بلاشبہ دردِدل رکھنے والے ہر پاکستانی اور تاریخ کے ہر ذی شعور طالب علم کو افسردہ کر دیا ہے۔آج بھی "مکتی باہنی" کی باقیات اس ایجنڈے پر مصروفِ عمل ہیں کہ بنگلہ دیش کو بھی بھوٹان کی طرح بھارت کی طفیلی ریاست بنانے کے درپے ہیں جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر ان افراد کے چہروں کو بے نقاب کیا جائے جنہوں نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا. ہم ابھی تک مختلف قومیتوں میں بٹ کر آپس میں اپنے اپنے مفاد کی خاطر دست بہ گریبان ہیں۔ہمارے حکمران ایک اور سقوط ڈھاکہ کے انتظار میں ہیں. ہم نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا. افغانستان میں بھارت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں،بلوچستان میں بیرونی مداخلت روز بروز بڑھتی جارہی ہے،روشنیوں کا شہر کراچی لہو رنگ ہے،قبائلی علاقوں کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مقتل گاہ بنا ڈالا ہے اور ہم ہر چیز سے نظریں چرائے کشکول ہاتھوں میں  لئے بھیک مانگنے نکل کھڑے ہوئے ہیں
کیا وه وقت نہیں آیا کہ پاکستان بنتے وقت اللہ سے کئے گئےوعدے کو پورا کیاجائے اور اسلامی اقدار کی جو دھجیاں اڑائی جارہی ہیں انکو روکنے کا کوئی سدباب کیا جائے اسکے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام سیاسی بتون کو توڑ کر اللہ اور اسکے رسولﷺ کی اطاعت میں آجائیں. اس کے علاوہ پاکستان کو مضبوط اور متحد رکھنے کا کوئی اور راستہ نہیں
لیکن ہماری کیفیّت یہ ہے کہ 
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا .................... لوگ ٹھہرے نہيں حادثہ دیکھ کر

جمعہ، 13 دسمبر، 2013

سلام تم پر افق کے اس پار جانے والو

3 comments

دسمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نے پھر دسمبر کی یاد تازہ کر دی ۔ ایک ایسی یاد جو ہمیشہ آنکھوں کو آنسوؤں سے بھر دیتی ہے۔ بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبّت  اور 1971 میں پاکستان کو دولخت ہونے سے بچانے کیلئے پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ " البدر" کے پلیٹ فارم سے اپنی جوانی نچھاور کر دینے والے عبدالقادر ملا کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا۔جنگی جرائم کے ٹرابیونل نے رواں سال فروری میں عبد القادر ملا کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نےسزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔  
 عبدالقادر ملا کی شہادت کی خبر سے آنکھوں سے بے اختیارآنسو رواں ہیں لیکن ان کے آخری خط کے الفاظ اور ان کے اہلِ خانہ کی ہمّت اور حوصلہ بلاشبہ دلوں کی ڈھارس بندھا رہا ہے  
کہ دل شکستہ نہ ہو اور غم نہ کرو تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو( القرآن )
عبدالقادر ملا کے جیل سے آخری خط کے الفاظ ہیں
عبدالقادرملا
قیدی نمبر---379
سکنہ --کا ل کوٹھری
سنٹرل جیل --ڈھاکہ
مجھے نئے کپڑے فراہم کر دئے گئے ہیں، نہانے کا پانی بالٹی میں موجود ہے،سپاہی کا آرڈر ہے کہ جلد از جلد غسل کر لوں،کال کو ٹھری میں بہت زیا دہ آنا جانا لگا ہوا ہے،ہر سپاہی جھانک جھانک کر جارہا ہے، کچھ کے چہرے افسردہ اور کچھ چہروں پر خوشی نمایاں ہے، ان کا بار بار آنا جانا میری تلاوت میں خلل ڈ ا ل رہا ہے،میرے سامنے سید مودودی کی تفہیم القرآن موجود ہے، ترجمہ میرے سامنے ہے" غم نہ کرو ، افسردہ نہ ہو - تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو " سبحان الله کتنا اطمینان ہے ان کلمات میں ......! میری پوری زندگی کا حاصل مجھے ان آ یات میں مل گیا ہے، زندگی اور موت کے درمیان کتنی سانسیں ہیں یہ رب کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔مجھے اگر فکر ہے تو اپنی تحریک اور ارکنان کی ہے، الله سے دعا ہے کہ وہ ان سب پر اپنا فضل اور کرم قائم رکھے. آمین الله پاکستان کے مسلمانوں اور میرے بنگلہ دیش کے مسلما نوں پر آسانی فرمائے --- دشمنان اسلام کی سازشوں کو ناکام بنا دے(آمین)عشاء کی نما ز کی تیاری کرنی ہے ، پھر شاید وقت ملے نہ ملے؟ میری آپ سے گزارش ہے کہ ہم سب نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے اس پر ڈٹے رہیں، میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ راستہ سیدھا جنت کی طرف جاتا ہے.
آپ کا مسلمان بھائی ...

عبدالقادرملا

اور ایسے موقعوں پر جب زندگی کا ساتھی اس دنیا سے رخصت ہو رہا ہو خاتونِ خانہ کیلئے کس قدر مشکل لمحہ ہوتا ہے ایسے موقع پر ان کی اہلیہ کی جانب سے آنے والے بیان نے قرونِ اولٰی کی مسلم خواتین کی یاد تازہ کر دی فرماتی ہیں 
"مجھے فخر ہے کہ میں کسی کافر کی بیوی نہیں، جماعت اسلامی کے ایک رکن کی بیوی ہوں اور رکن ہونے کی وجہ سے ان سے شادی کی تھی اور امید کرتی ہوں کہ وہ آخری وقت تک عہدِ رکنیّت نبھائیں گے،انہوں نے کہا کہ میں جماعت اسلامی کے کارکنان سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ احتجاج مین اپنی جانین دینے کی بجائے اپنی صلاحیّتیں اس ملک میں اسلامی نظام کیلئے وقف کر دیں"
اگر ہم شہید ہوجائیں تو بھی ہم کامیاب ہیں اور اگر زندہ رہیں تو بھی جیت ہماری ہے۔ دونوں صورتوں میں ہم ہی فاتح ہیں
 اورآخری ملاقات کے بعد عبدالقادر ملا کے وکیل تاج الالسلام کا کہنا تھا
آج صبح مسٹر عبد القادر ملا کے ساتھ آخری ملاقات کے لیے جیل گئے تھے۔ سزائے موت سے قبل کسی فرد سے آخری " انٹرویو" میری زندگی میں پہلا واقعہ تھا۔ میں پوری طرح متوجہ اور مسحور تھا، اور ذہن میں یہ تھا کہ یہ شخص کل نہیں ہوگا۔ مگر ایک مسکراہٹ کے ساتھ اسلامی تحریک کے ایک سچے رہنما کی طرح انہوں نے اپنے قانونی معاملے پر گفتگو کی۔ اور کہا کہ جن جرائم کا ان پر الزام لگا کر ان کے خلاف فیصلہ دیا گیا ہے، ان کے متعلق وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔میرے خلاف جعلی گواہ عدالت میں لائے گئے۔ اور من پسند فیصلہ کیا گیا۔ عبدالقادر ملا جو زمانہ طالب علمی میں سید مودودی اور سید قطب سے متاثر تھے۔ انھی کے راستے پر چل کر پھانسی کا سزاوار ہونا اور پھر صبر و ہمت اور استقامت کا مظاہرہ ایک نمونہ تھا۔ ان کا سر بلند تھا اور رہا۔ وہ مطمئن اور پر سکون تھے۔ عبدالقادر ملا آج مجھے ہمالیہ سے بلند محسوس ہوا۔
اللہ عبد القادر ملا کی شہادت کو قبول فرمائے اور ان کے لہو سے بنگلہ دیش کی احیائے اسلام کی تحریک کو توانائی عطا کرے. آمین...

اتوار، 1 دسمبر، 2013

جو دبا سکو تو صدا دبا دو

9 comments

مکہ کی گلیوں میں گرم کوئلوں پر لٹائے گئے خباب بن ارط کی ثابت قدمی کا حوالہ ہو یا پھرعین عالمِ دوپہر میںعرب کی تپتی ہوئی ریت پرلٹائے گئےسیدنا بلال حبشی کی" احد، احد " کی بلند ہوتی صدائیں، ابوجہل کے ظلم وستم کے سامنے ڈٹ جانے والی کمزور سی سیدہ سمیہ کی المناک داستان ہو یا آلِ یاسر کی پامردی کا تذکرہ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا میں حق وباطل کی کشمکش ازل سے جاری ہے اور تا ابد جاری رہے گی۔
یہ کیسے لوگ ہیں جنہیں نہ کسی جابر کاجبر جھکنے پہ مجبور کر سکا نہ کسی ظالم کے ظلم سے ان کے پائے ثبات میں کوئی لغزش آئی۔ یہ نبی اکرمﷺ کے ان جان نثاروں کے پیرو ہیں کہ حق بات پر کٹ جانا جن کا شیوہ رہا ہے اور اس حال میں کہ نیزہ گردن کو چھو رہا ہو اور سوال کرنے والا سوال کرے کہ اے فلاں کیا تم یہ بات پسند کرو گے کہ آج تمہیں رہا کر دیا جائےاور تمہاری جگہ نعوذ باللہ تمہارے نبیﷺ کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا جائے تو جواب دینے والے نے کہا تھا کہ واللہ تم نے تو بڑی بات کہ دی میں تو یہ بھی پسند نہیں کروں گا کہ آج مجھے رہا کردیا جائے اور اس کے بدلے میں میرے نبی مہرباں ﷺ کے پاؤں میں کوئی کانٹا بھی چبھ جائے۔ اور خدا کی قسم یہ تو وہ لوگ ہیں کہ جب نیزہ جسم کے آر پار ہو تو پکار پکار کر کہتے ہیں " ربّ کعبہ کی قسم میں تو کامیاب ہو گیا
مصر کے دوسرے بڑے شہر الاسکندریہ کی عدالت کی جانب سے 14 اسلام پسند لڑکیوں کو 11 ، 11 سال قید کی سنائی جانے والی سزا اور اس موقع پر انٹر نیٹ کے ذریعے میڈیا پر شائع شدہ ان کی تصویر میں ان ہنستے مسکراتے چہروں نے قرونِ اولٰی کی مسلم خواتین کی یاد تازہ کر دی ہے، ان کمسن بچیوں پر الزام عائید کیا گیا ہے کہ یہ لڑکیاں 31 اکتوبر کو سڑکوں پر مظاہرے کی ترغیب دینے اور دوران مظاہرہ مرسی کے لبرل و سیکولر م پر پتھر پھینکنے اور چاقو چلانے میں ملوث ہیں۔ لیکن حقیقت میں لبرل و سیکولر غنڈے فوج کی مدد سے اسلام پسندوں کے پر امن مظاہروں پر حملہ آور ہونے اور خون کا بازار گرم کرنے میں ملوث ہیں 
اسی مقدمہ میں الاخوان المسلمون کے 6 دیگر مرد رہنماؤں کو بھی 15 ، 15 سال قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ سزا پانے والوں کے پر عزم اور شادماں چہرے وقت کے فرعونوں سے پکار پکار کر کہ رہے ہیں
جو دبا سکو تو صدا دبادو
جو بجھا سکو تو دیا بجھا دو
صدا دبے گی تو حشر ہو گا 
دیا بجھے گا تو سحر ہو گی

................................................................................

................................................................................
.