
سن دوہزارکی بات ہے میرا ایک دوست خدام الحجاج کی ڈیوٹی کیلئے سعودیہ چلا گیا فون تو تھا نہیں سو کبھی کبھار خط کے ذریعے آدھی ملاقات ہو جاتی،مکہ اور مدینہ کے تذکرے ہوتے وہاں کی پرنور اور پر رونق فضاؤں کا حال پڑھنے کو ملتا تو دل مچلتا کہ کبھی ہمیں بھی حاضری نصیب ہوجائے،اور وسائل اپنے پاس تھے نہیں ایک دن ڈرتے ڈرتے والد صاحب سے کہا "ابا جی اگر کچھ پیسے مل جائیں تو اس رمضان میں میں عمرہ کیلئے جانا چاہتا ہوں"
عمرے کیلئے کیا جانا ہے ایک ہی دفعہ حج کو چلے چلو
معلوم نہیں ابا جان نے کس لہجے میں بات...