منگل، 21 جولائی، 2015

حصار

14 comments

اسلام آباد کے نواحی علاقے مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں اس گاؤں کا نام مجھے اچھی طرح سے یاد نہیں لیکن وہ منظر میں بھول نہیں پایا،جب گاؤں کی گلیوں میں خوبصورت بچے اور بچیاں ادھر سے ادھر گھومتے پھر رہے تھے اور تو اور ٹافیاں اور بتاشے بیچنے والوں کا کاروبار بھی خوب چمک اٹھا تھا میں حیرت سے ان بچوں کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ایسے مناظر تو شادی بیاہ کی تقریبات کا خاصہ ہوتے ہیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رنگ برنگے کپڑے ٹافیاں بتاشے اور مہکتے پکوانوں کی خوشبو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بہت چھوٹا تھا جب والدہ کاانتقال ہو گیا مجھ سے چھوٹا بھائی لگ بھگ کوئی دو سال کاہی ہو گااور مجھ سے بڑا کوئی دس سال کے لگ بھگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گاؤں میں ہماری کریانے کی ایک چھوٹی سی "ہٹی" ہماری گزر بسر کا ذریعہ تھی لیکن لین دین روپوں پیسوں کی بجائے اجناس کی شکل میں ہوتا تھا کام بہت اچھا تو نہیں تھا لیکن گزر بسر ہو ہی جاتی، والدہ کے انتقال کے ساتھ ہی "خوشحال" رشتہ داروں نے نہ جانے کیوں ہم سے گویا ناطہ توڑ لیا تھا،"گھرداری اور دکانداری"اکٹھے چلانا ،گھر کاکام کاج بھی ہوتا تو کھاناپکانا بھی دکان کھولنا بھی مجبوری ہوتی کہ اس کے بغیر کاروبار حیات چلنا ممکن نہ تھا پھر ایک دن گاؤں میں ایک "مستری" نے آکے اپنی دکان سجائی ، ایسے پرانے "تالوں" میں لوگ اس سے "چابیاں" بنواتے جن کی چابیاں گم ہو چکی تھیں ہر چابی کے عوض وہ "آٹھ آنے" وصول کرتا میں دن بھر اس کے پاس بیٹھا اسے چابیاں بناتے دیکھتا رہا اور شام کو گھر آکے والد صاحب سے کہا کہ آپ تو اپنے گھر کے کسی تالے میں جب "چابی" ٹوٹ جائے تو خود ہی چابی بنا لیتے ہیں اور آج وہ جو تالوں میں چابی ڈالنے والا آیا تھا وہ ایک دن میں اچھے خاصے پیسے کماکے لے گیا تو آپ بھی یہی کام کیوں نہیں شروع کردیتے، والد صاحب کو یہ بات پسند آئی اگلی صبح ہم نے ایک روپے کی کوئی درجن بھرچابیاں خریدیں اور میں اور والد صاحب دونوں بھائیوں کو پڑوسیوں کے سہارے گھر چھوڑ کر قسمت آزمائی کرنے نکل کھڑے ہوئیے بستی بستی قریہ قریہ گھومتے دن میں مزدوری کرتے اور رات کسی مسجد میں ہم دونوں "مسافر" شب بسری کے بعد اگلی صبح پھر سے مزدوری کو نکل کھڑے ہوتے،اللہ نے ہماری محنت میں برکت ڈال دی کام چل پڑا لوگ ہماری آمد کے منتظر رہتے ہم اپنا "آٹا"ساتھ رکھتے کبھی کوئی کام کروانے والا کام کے بدلے میں کھانا کھلا دیتا اور کبھی ہم اپنا آٹا کسی کو دے کے "روٹی" کے ساتھ ایکسچینج کر لیتے۔ دودھ بیچنے کا رواج تو تھا نہیں لوگ دودھ سے دہی،مکھن،لسی اور گھی بناتے اور وہی گھروں میں استعمال ہوتا جن کے گھر میں کوئی گائے بھینس نہ ہوتی وہ"لسی" پڑوسیوں سے مانگ لیتے ہمیں بھی کہیں نہ کہیں سے "لسی" مل جاتی اور یوں لسی کے ساتھ خوب سیر ہو کے کھانا کھاتے صبر شکر کرتے اور رات گاؤں کی مسجد میں بسر کرنے کے بعد اگلی صبح پھر کسی دوسرے گاؤں کا رخ کرتے ، ہفتے عشرے بعد اپنے "گاؤں" کا چکر لگا آتے، وقت پر لگا کے اڑتا رہا اور پھر ہم اسلام آباد کے نواحی گاؤں میں جا نکلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد کے نواحی علاقے مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں اس گاؤں کا نام مجھے اچھی طرح سے یاد نہیں لیکن وہ منظر میں بھول نہیں پایا،جب گاؤں کی گلیوں میں خوبصورت بچے اور بچیاں ادھر سے ادھر گھومتے پھر رہے تھے اور تو اور ٹافیاں اور بتاشے بیچنے والوں کا کاروبار بھی خوب چمک اٹھا تھا میں حیرت سے ان بچوں کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ایسے مناظر تو شادی بیاہ کی تقریبات کا خاصہ ہوتے ہیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رنگ برنگے کپڑے ٹافیاں بتاشے اور مہکتے پکوانوں کی خوشبو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک جاننے والے نے ہمیں اچھا سا کھانا کھلایا میں نے بھی خوب جی بھر کے کھانا کھایا اور پھر جو سوال بہت دیر سے میرے ذہن میں کلبلا رہا تھا "والد صاحب" سے پوچھ ہی لیا، "چاچا جی" یہاں اس گاؤں میں آج کسی کی شادی ہے کیا اور والد صاحب کے جواب کی گونج آج بھی کہیں میرے ذہن کے "نہاں خانوں" میں گونجتی سنائی دیتی ہے 
نہیں پتر آج تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عید کا دن ہے۔
وقت اور حالات نے محنت کی اس کمائی میں برکت عطاکی حالات بدلے گاؤں میں کریانے کی دکان خوب چل نکلی "کم منافع زیادہ سیل" کے فارمولے پہ کام چلتا رہا،گاؤں کے پرائمری سکول کے شفیق استاد "ماسٹر الف دین" صاحب کی کمال محبت سے میں نےمیٹرک تک تعلیم مکمل کر لی، ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر دوست بنے تو اس میدان میں چلا آیا۔
اور پھر اگلی صبح "ابا جی" کہنے لگے آج ایک عجیب سی بات ہوئی کسی نے گویا مجھے سوتے میں زور سے جھنجھوڑا اور کہنےلگا "ماضی کے دریچوں میں مت جھانکئیے"
"ابا جی" کا لہجہ کچھ اس انداز کا تھا کہ میں جب بھی اسے یاد کرتا ہوں میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور اب جب کہ میری انگلیاں کمپیوٹر کے "کی پیڈ" پر"ٹھک ٹھک" لکھنے میں مصروف ہیں میری آنکھوں کے سامنے "بار بار" آنسوؤں کے پردے حائل ہو جاتے ہیں۔
بچپن کی عیدوں کا تذکرہ ہوا، میں اپنی عید کاتذکرہ کیا کروں میں تواپنے "والد صاحب" کے بچپن کے عید کے حصار سے ہی کبھی نکل نہیں پایا، اور ان کے سامنے، ان کے زیرِ سایہ آج بھی ایک "بچہ" ہی ہوں 
بس اس کوہی کافی سمجھئے 
اور آخر میں حسبِ روایت ایسی ہی تحریرکیلئے میں ٹیگ کر رہا ہوں محترم ڈاکٹرجواد احمد خان، ملک غلام مصطفٰی،نورین تبسّم،اسرٰی غوری،ایم بلال ایماورجنابمحمد سلیمکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں ان کی تحریروں کا انتظار رہے گا

جمعہ، 3 جولائی، 2015

32 برس پہلے کا روزہ

17 comments
جی ہاں 32 سال پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب نہ امن وامان کی صورتِ حال خراب تھی نہ نفرتوں کے بیج پھوٹے تھے،جب ایک ہی پیڈسٹل فین گھر کے سبھی افراد کو ہوا دینے کو کافی تھا اور جب نہ فریزر تھا تو نہ کولڈ ڈرنکس کی بہتات روزہ تو بس لسی اور تنور کی روٹی کھا کے رکھ لیا جاتا اور شکر یا گڑ کا شربت ہی سافٹ ڈرنک ہوتا اور اگر کہیں کسی گھر میں تھوڑی خوشحالی تھی تو وہاں "روح افزاء" ہی سب کچھ تھا، روزے پکوڑوں کے بغیر بھی افطار ہو جاتے اور جب پکوڑوں کی خواہش میں ہمارا پہلا "مکمل روزہ" میڈیسن کے ہاتھوں افطاری سے محض چند لمحے قبل جان ہار گیا 
سحری میں تنور پر پکتی روٹیوں کی "پٹک پٹک"کےساتھ بھی جب آنکھ نہ کھلتی توپاس سے گزرتی باجی چپکے سے پانی کا چھینٹا ہم پر مار جاتی اگر یہ بھی نہ ہوتا تو کوئی کزن ایک چٹکی ہی کاٹ جاتا اور ہم بھی اٹھ جاتے،جب سخت گرمی کے موسم میں ہم جیسے"چھوٹے بچوں" کو روزہ نہ رکھنے دیا جاتا توسبھی کزنز آپس میں طے کرکے سوتے کہ جس کی بھی آنکھ کھل جائے وہ دوسروں کو لازماً جگائے گا تاکہ سب مل کے روزہ رکھ سکیں کبھی کبھار تو یوں بھی ہوتا کہ کوئی کزن اٹھ جاتا اور دوسروں کو نہ جگاتا کہ اس کے روزے دوسروں سے زیادہ ہو جائیں لیکن ہم بھی کہاں پیچھے رہنے والے ہوتے اگلے دن ، دن میں چار کی بجائے پانچ رزے رکھ کے حساب برابر کردیتے
میرے بچپن کا رمضان بھی آج ہی کے رمضان کی طرح خوب "گرما گرم" تھا۔ سحری میں تنور کی روٹی اور ساتھ میں دہی ، لسی اور گھی شکر توافطاری میں روح افزاء ، شکر کا شربت اور فروٹ میں تربوز ہی اس دور کی سوغات تھی لیکن ایک "عجیب" بات یہ تھی کہ اس دور کا روزہ "پکوڑوں" کے بغیر بھی افطار ہو جاتا تھا۔ ابا جی تراویح پڑھنےجاتے تو ہم بھی گھر سےسر پر ٹوپی سجائے بڑے نمازیوں کی طرح تراویح پڑھنے کے بہانے ساتھ آجاتے ادھر تراویح کی جماعت کھڑی ہوتی ادھرہم دوستوں کی فوج گلی میں "چھپن چھپائی" کھیلنے کو نکل پڑتی اور جب معلوم ہوتا کہ تراویح اختتام کے قریب ہے تو ہم بھی چپکے سے جا کے "آخری صف" میں ہاتھ باندھ کے کھڑے ہوجاتے۔ افطاری میں روزے داروں سے بڑھ کے اپنے سامنے شربت کا گلاس رکھنا تو معمول تھا ہی تربوز پر بھی خوب ہاتھ صاف کرتے اور رات سونے سے پہلے صرف اس لئے "واش روم" نہ جاتے کہ سحری کے وقت پیشاب کے دباؤ سے آنکھ کھل جائے گی اور پھر کل روزہ رکھیں گے۔
وہ ایسا ہی گرمی کا اک دن تھا جب میں نے ضد کرکے پورا روزہ رکھنے کی ٹھان لی دوپہر بارہ بجے تک تو کام ٹھیک ہی چلتا رہا لیکن اس کے بعد آہستہ آہستہ طبیعت خراب ہونا شروع ہو گئی عصر کے قریب میں نے ضد شروع کی کی افطاری میں میں تو "پکوڑے" بھی کھاؤں گا۔ ابا جان سے "دوروپے" لے کے جو پکوڑوں کی ریڑھی کے پاس پہنچا تو سر ہلکا سا چکرایا فوراً واپسی کی راہ لی لیکن ابھی "کلینک" سے چند قدم دور ہی تھا کی زور سے لڑکھڑایا ابا جان جو میری واپسی کے منتظر تھے کہ میں لوٹوں تو گھر جایا جائے فوراً مجھے تھامنے کو آگے بڑھے لیکن میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا چکا تھا ، میڈیسن کے ہاتھوں افطاری سے چند لمحے پہلے میرا "پہلا روزہ" دم توڑ گیا
رمضان کی سحری اور افطاری کے ساتھ وابستہ حسین یادیں جہاں زندگی کا خوبصورت سرمایہ ہیں وہیں ہر سال آنے والا "رمضان" ایک مہربان "ہستی" کی یادوں کو بھی تازہ کر جاتا ہے ایسے ہی ایک "رمضان" میں جب میں چوتھی کلاس کا طالب علم تھا 1983 کے 9 رمضان المبارک میں میری "ماں" اس دنیا سے رخصت ہو گئیں زندگی کے گزرتے لمحوں میں دکھ اور تکلیف کی بجائے سکھ اور چین کے لمحے ہمیشہ ان کی یادوں کو تازہ کر دیتے ہیں۔
میں شکر گزار ہوں محترمہ کوثر بیگ صاحبہ کا جن کی پہلی"رمضان تحریر"نے بچپن کےرمضان کو ایک تحریری چین(Chain) بنا دیا
خصوصی شکریہ محترم رمضان رفیق صاحب کا جنہوں نے مجھے خصوصی طور پر ٹیگ کیا اور یہ تحریر ضبطِ قلم میں آسکی
اختتام پر میں بھی کچھ لوگوں کو ٹیگ کرتا چلوں تاکہ کچھ اور خوبصورت یادوں سے ہم لطف اندوز ہو سکیں
محترم محمد سلیم ، نورین تبسّم ، اسرٰی غوری ، ایم بلال ایم ، غلام اصغر ساجد ، وجدان عالم اور محترم مصطفٰی ملک صاحب کی"رمضانی" تحریروں کا انتظار رہے گا

اتوار، 28 جون، 2015

میرا محسن

3 comments
دو اجنبی طائف کی گلیوں اور بازاروں میں ایک ایک دروازے پر دستک دیتے ایک ایک دل کی دنیا کو بسانے کی کوشش میں صبح سے شام کر گزرتے ہیں لیکن کوئی ایک بھی نہیں جو ان کی دعوت پہ لبیک کہے کوئی ایک بھی نہیں جو ان کی بات سننے پہ آمادہ ہو، کوئی ایک بھی نہیں جو ان کی دعوت کو اپنے دل میں جگہ دینے والا ہو۔دعوت کو سننا اور اسے قبول کرنا تو درکنار انہوں نے تو مذاق اور ٹھٹھے کی بھی انتہا کردی کوئی کہتا ہے اچھا تم کو نبی ﷺ بنا کر بھیجا ہے اللہ میاں کو کوئی اور نہیں ملا تھا کہ جس کو نبی بنا کر بھیجتا طنز کے کیسے کیسے نشتر اور تیر تھے جو ان پر چلائے نہیں گئے لیکن پھراسی پرہی بس نہیں کیا گیا طعن وتشنیع اور طنزومزاح کے تیروں سے دل تو زخمی تھا ہی کہ واپس لوٹتی اس عظیم ہستیﷺ اور ان کے ساتھی کے پیچھے گلی کے بچوں اورآوارہ لڑکوں کو لگا دیا اور نتیجتاً اتنا پتھراؤ آپﷺ پر کیا جاتا ہے ،اتنی کنکریاں ماری جاتی ہیں کہ جسمِ اطہر سے خون نکل نکل کر نعلین مبارک میں جم جاتا ہے اور اس حال میں آپﷺ ایک درخت کے نیچے سستانے کو ٹھہرتے ہیں کہ جبریل امین علیہ السلام تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اپنے ساتھ پہاڑوں کے فرشتے کو لایا ہوں اگر آپﷺ حکم کریں تو اس بستی کے گرد ان دونوں پہاڑوں کو آپس میں ملا کر اس کو تہس نہس کردےاس لئے کہ آج آسمانوں پر اللہ رب العزت بھی بڑا غضبناک ہے کہ اس کے محبوب بندے کو یوں ستایا گیا ہے یہی نہیں بلکہ پتھروں سے لہو لہان کرکے خالی ہاتھ لوٹایا گیا ہے بس آپ ایک اشارہ کیجئے کہ اس بستی کورہتی دنیا تک کیلئے عبرت کا نشان بنا دیا جائے، کس قدر سنہری پیشکش ،ابھی چند لمحوں پہلے ہی جن لوگوں نے ظلم کی انتہا کر دی خون میں نہلا دیا، پاگل اور مجنوں کہا ان سے بدلہ لینے کا موقع ہاتھ آگیا تھا لیکن آپ ﷺ جبرئیل امین علیہ السلام کی زبانی اس پیشکش کو سنتے ہیں تو فرماتے ہیں نہیں جبرئیل یہ نہیں تو ان کے بعد والے ایمان لے آئیں گے، وہ نہیں تو ان کی آئندہ نسلیں ایمان لے آئیں گی ان کی نسلوں میں کوئی تو ہوگا کہ جو ان راہوں پہ چلے گا،  یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آج انہیں فنا کے گھاٹ اتار کے مستقبل کے متعلق کوئی امید قائم کی جاسکے،بلاشبہ ایسے الفاظ تو کوئی ایسی ہی ہستی کہہ سکتی ہے جورحمۃاللعالمین ہوجس کے دل ودامغ میں بس انسانوں کی خیر خواہی ہی پیشِ نظر ہو۔ نبی اکرم ﷺ حضرت جبرئیل امین علیہ السلام سے یہ بات کہتے ہیں اور پھر ضبط کا دامن ٹوٹ جاتا ہے اور سجدے میں گر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں پروردگار! یہ تو نے مجھے کن کے حوالے کر دیا جو میری بات ہی نہیں سنتے ، میری بات کو دل میں جگہ ہی نہیں دیتے، لیکن اس گلے اور شکوے کے بعد فرماتے ہیں پروردگار! اگر تو اسی پر راضی اور خوش ہے تو میں بھی اس پر راضی ہوں
لاکھوں ، کروڑوں اور اربوں درودو سلام نبی مہربان ﷺ کی بصیرت پر کہ "یہ لوگ نہیں تو ان کے بعد آنے والے وہ نہیں تو ان کی آئندہ نسلیں تو ان راہوں پہ چلیں گی" 
کبھی آپ نے سوچا یہ میں اور آپ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور نبی ﷺ کے نام کا کلمہ پڑھتے ہیں یہ نبی ﷺ کے اسی صبر اور رحمۃاللعالمین ہونے کا نتیجہ ہے، وہ جو نبیﷺ نے فرمایا تھا "یہ لوگ نہیں تو ان کے بعد آنے والے وہ نہیں تو ان کی آئندہ نسلیں تو ان راہوں پہ چلیں گی" گزرتے وقت نے ثابت کیا کہ انہی اہلِ طائف کی بدولت اسلام مجھ تک اور آپ تک پہنچا ہجرتِ مدینہ کے 92 برس بعد 10 رمضان المبارک 92 ہجری میں محمد بن قاسم ایک مسلمان بیٹی کی پکار پرسندھ کے راستے برصغیر میں داخل ہی نہیں ہوا بلکہ اسلام کی ٹھنڈی ہوائیں بھی اپنے ساتھ لایا 
لاکھوں درودوسلام حضرت محمد مصطفٰی ﷺ پر جن کے نعلین بارک خون سے لت پت ہوئے اور ان کی اس قربانی کے نتیجے میں اہلِ طائف کی اولاد میں سے محمد بن قاسم ،اسلام کا داعی بن کے پورے برصغیر کی تاریک فضاؤں کو اسلام کی روشنی سے منور کر گیا
بلاشبہ وہ میرا محسن ہے 

منگل، 2 جون، 2015

اٹل حقیقت

1 comments

سادگی کے ساتھ زندگی بسر کرتے اسے ایک عمر گزر گئی محنت و مشقت تو اس کی "گھٹی" میں "رچی بسی" تھی، اپنے ہاتھوں سے برتن بنانا آباؤ اجداد سے اس کا پیشہ چلا آرہا تھا،اس کے بیٹے گاؤں کی زندگی ترک کرکے شہر میں جابسے لیکن اس نے گاؤں چھوڑنے سے انکار کر دیا کہ بس"جینا مرنا" یہیں ہو گا، محنت مشقت کےعادی اس شخص کی صحت بھی بلا کی تھی "خشک روٹیاں" کھا کے 80 سال کی عمر میں بھی جوان دِکھتا تھا،عجیب سادہ آدمی تھا زندگی کی 80 بہاریں گزار دیں لیکن کبھی گاڑی میں سفر نہیں کیا اس خوف سے کہ گاڑیوں کے ایکسیڈنٹ میں لوگ مر جاتے ہیں،
"تایا جان" اس کا تذکرہ کر رہے تھے اور میں کمال حیرت سے ان کی باتیں سنے جا رہا تھا کیا آج کے دور میں بھی ایسا ممکن ہے کہ کوئی پیدل سفر کو گاڑی پہ سفر کرنے پہ ترجیح دے لیکن مجھے بتایا گیا کہ وہ تو 30 میل دور بسنے والی ہمشیرہ سے ملنے بھی ہمیشہ "پیدل" ہی چل دیتا تھا ،اور کل صبح بھی ہمشیرہ سے ملنے کیلئے گاؤں سے پیدل نکل کھڑا ہوا۔ کوئی تین میل ہی چلا تھا کہ پرانے "گرائیں" غلام نبی سے ملاقات ہوگئی اور جب دو دیوانے یار مل بیٹھے تو روڈ کنارے ہی محفل سجا لی باتوں ہی باتوں میں وقت گزرنے کااحساس ہی نہ ہوا اور فرشتئہ اجل آپہنچا روڈ سے گزرنے والی کار کا ٹائر نکلا اور گاڑی "مست اونٹ" کی طرح "جھومتی" ان دونوں لنگوٹیوں سے آٹکرائی۔ "جمعہ خان" جو کبھی موت کے خوف سے گاڑی پہ سوار نہ ہوا تھا گاڑی ہی کی ٹکر سے داعیِ اجل کو لبیک کہہ گیا اور اس کا "لنگوٹیا" یار موت وحیات کی کشمکش میں ہسپتال جا پہنچا۔ موت کے خوف سے گاڑی میں سوار نہ ہونے والا "چاچا جمعہ خان" اس بات سے بے خبر رہا کہ موت تو انسان کے سائے کی طرح ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے جو ایک اٹل حقیقت ہے اور جس سے فرار ممکن نہیں۔ 
بے شک سچ فرمایا اللہ ب العزت نے
اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یُدۡرِکۡکُّمُ الۡمَوۡتُ وَ لَوۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ بُرُوۡجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ 
تم جہاں کہیں (بھی) ہوگے موت تمہیں (وہیں) آپکڑے گی خواہ تم مضبوط قلعوں میں (ہی) ہو(سورۃ النساء  آیت 78)

جمعہ، 22 مئی، 2015

سیؔد منوؔر حسن کی کھری کھری باتیں

12 comments
 کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں قائم اسلامک ریسرچ اکیڈمی کی وسیع وعریض عمارت کے کانفرنس روم میں ہم ٹھیک وقت پر پہنچے تھے اس لئے کہ ہمیں اپنے میزبان کی "پابندئِ وقت" کی خوبی کا بخوبی علم تھا معلوم ہوا وہ ٹریفک جام کی وجہ سے 5 منٹ لیٹ ہیں اور یہ پانچ منٹ گزرتے ہی روشن پیشانی سادہ لباس اور چہرے پہ مسکراہٹ سجائے "سید منور حسن" ہمارے درمیان موجود تھے سب سے فردًا فرداً ہاتھ ملایا خیریت پوچھی تعریف وتعارف کے مرحلہ طے ہوا،ادرے میں اردو بلاگرز کی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا،اردو کے علاوہ دیگر زبانوں پر کام سے حوالے سے معلومات لیں،انہیں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا پر پاکستانی زبانوں میں اردو کے علاوہ سندھی اور پشتو کے استعمال کرنے والے بھی موجود ہیں،مختلف سیاسی جماعتوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے حوالے سے معلومات لیں،اور اپنی دلچسپی کا اظہار کیا، ہلکی پھلکی گپ شپ ہوتی رہی اسی دوران "گرما گرم" چائے آ گئی اور چائے کی "چسکیوں" کے درمیان گفتگو کا موضوع کراچی کی صورتحال کی طرف آگیا ، "سیّد صاحب" نے اس حوالے سے تفصیلی اور بے لاگ گفتگو کی ان کا کہنا تھا کہ جب بھی ایم کیو ایم کو ٹارچر کر کے یا اس کو نشانہ بنا کے الیکشن لڑا گیا تو ہمیشہ ایم کیو ایم کو ووٹ پڑا کیونکہ عصبیت ایسی چیز ہے کہ اگر اسے چھیڑا جائے تو یہ ملٹی پلائی کرتی ہےایم کیو ایم نے مہاجر کارڈ کو بہت کامیابی سے کھیلا ہے کہ وہ لوگ جو ایم کیو ایم کو چھوڑ کے دوسری جانب چلے گئے تھے انہوں نے بھی یہ اعلان کیا کہ آدھے مہاجر ہونے سے پورا مہاجر ہونا بہتر ہے،یہ ایک ایسا حلقہ تھا جہاں مہاجر ووٹ بہت بڑی تعداد میں ہے اور پنجابی یا پختون ووٹ نہ ہونے کے برابر، بنیادی بات یہی ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے مہاجروں کو انڈر پریشر کرنے کی کوشش کی گئی عمران خان نے مہاجروں کو گالی دی تو جماعت اسلامی نے بھی مہاجروں کے ساتھ مس بی ہیو(Misbehave) کیا اور یہی وجہ ہے کہ 25 سے 30 پزار ووٹ صرف اس وجہ سے ایم کیو ایم کو زائد پڑے،یہ ایک تلخ حقیقت  ہے کہ یہ الیکشن سیریس ہو کے لڑا ہی نہیں گیا۔
بدلتے ہوئے عالمی اور ملکی حالات میں اسلامی جماعتوں کے مستقبل، مصر بنگلہ دیش،الجزائراور خود پاکستان میں اسلامی تحریکوں کے گرد تنگ ہوتے دائروں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ دنیا جسے اب "گلوبل ویلج"کا نام دیا جاتا ہے اس گلوبل ویلج کی ساری معلومات آپ کی انگلیوں کے پوروں تلے ہیں لیکن ان معلومات کے ذرائع آپ کے کنٹرول میں نہیں یہ انفارمیشن سے زیادہ ڈس انفارمیشن کی دنیا ہےجو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ آپ کی نہیں بلکہ غیروں کی دنیا ہے اور داعش سے لے کر گنتے چلے جائیں تو بے شمار واقعات ایسے ہیں جو ڈس انفارمیشن کا نتیجہ ہیں ایشو یہ نہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا،ایشو یہ ہے کہ اس کے باوجود ہم موجود ہیں،موت کی سزائیں سنا دی گئیں، لوگ جیلوں میں بند ہیں لیکن آج بھی پوری آب وتاب کے ساتھ تمام دائروں میں ہمارا وجود باقی ہے اتنے بڑے پیمانے پرامریکہ اور نیٹو افواج افغانستان میں موجود رہیں لیکن وہاں کچھ بگاڑ نہیں پائے ابھی بھی کم از کم 37 صوبے ایسے ہیں کہ جہاں شریعت نافذ ہے وہاں عدالتوں کے تمام فیصلے شریعت کے مطابق ہوتے ہیں حکومت کی قائم کردہ عدالتیں بھی موجود ہیں لیکن کوئی ان کی طرف رجوع ہی نہیں کرتا کیونکہ نہ وہاں انصاف نہ فوری ملتا ہی نہ مفت بلکہ وہاں انصاف ملتا ہی نہیں ۔
چھوٹے چھوٹے دائروں میں بھی اسلامی اور جہادی تحریکیں ہیں یہ سب لوگ زندہ ہیں اوران کی گردنوں پر سر قائم ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ بمباری ،ڈرون حملے، بم دھماکے،گرفتاریاں ، سزائیں اور قیدوبند کے باوجود ان کے قدم آگےبڑھے ہیں ان کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہیں آئی اور ان کو ختم کرنا ممکن نہیں ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تحریکوں کے پاس  جوعلاج ہے وہ کرتے رہنا چاہئیے،رستے بن رہے ہیں، نکل رہے ہیں ریاست کے اعتبار سے صرف ترکی کی ایک ریاست ہے جو آپ کی پشتیبان ہے باقی تو کہیں کہیں جزوی حمایت ہے
پاکستان کے اسلام پسند نوجوان موجودہ سیاسی سسٹم سے مایوس نظر آتے ہیں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیٹکس کی گیم ہے یوتھ کا مسئلہ تہ در تہ ہے پاکستان کے باہر یورپ اور امریکہ اور مڈل ایسٹ میں پاکستان کے بہت زیادہ نوجوان جابز کیلئے گئے ہیں لیکن ان نوجوانوں نے اپنے آپ کو اسلامی تحریکوں کے ساتھ منسلک رکھا ہے پاکستان میں بڑی تعداد جو بیرون ملک سے اسلامی تحریک سے متاثرہوئی انہوں نے وہاں سیاسی کام کے علاوہ سارے کام کئے اور صلاحیتوں کو زنگ آلود نہیں ہونے دیا،لیکن پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں آکربڑی تعداد ڈس سیٹسفائیڈ ہوئی ہے اوران کے  اس مؤقف کو رد نہیں کیا جاسکتا،یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد جو یہ سمجھتی ہے کہ ہم غلط کر رہے ہیں ان کا ایک بہت بڑا گروپ جو جہاداور جہادی تحریکوں کی طرف چلا گیا اگرچہ اس سے تحریک کو نقصان پہنچ بھی رہا ہے اور ہوا بھی ہے،لیکن ان کی قدر کرنا چاہئیے اوران کوواپس دھارے میں لانے کیلئے کوششیں جاری رہنی چاہئیں،بہت اچھے حالات سننے کی نوید ملے کی تو اسلام کے نام لینے والے ایک پلیٹ فارم پہ جمع ہو جائیں گے،بہت ساری چیزیں پلان کرنے کے باوجود نہیں ہو پاتیں، اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم اچھی پلاننگ بھی کریں لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ بہت ساری چیزیں بغیر پلان کئے بھی ہو جاتی ہیں
اسلامی جمعیّت طلبہ کے غیر مؤثر ہونے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ طلبہ یونین کے الیکشن ختم ہونے کے بعد بڑی تعداد میں باصلاحیت لوگوں کا جمعیت کی طرف آنا کم ہوا ہے ایک بڑی وجہ تعلیمی اداروں کا پرائیویٹ سیکٹر میں چلے جانا بھی ہے جہاں جمعیت کا داخلہ ہی ممنوع ہے جس کی وجہ سے جمعیت کو ہی نہیں پوری تحریک کو نقصان ہوا ہے یہ بھی اسلامی تحریک کے سوتوں کو خشک کرنے کی مسلسل کوششوںکا ایک حصؔہ ہے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ سیکولرازم جتنا مضبوط آج ہے اس سے پہلے کبھی نہیں رہا، اور آج کا سیکولرازم  کسی نظریے کا نام نہیں بلکہ اس کے پیچھے کوئی نظریہ اور فلسفہ سرے سے ہے ہی نہیں لیکن نقصان پہنچانے کیلئے اورلوگوں کے نظریے اور ترجیحات بدلنے کیلئے اتنا بھی کافی ہے۔
اس کا علاج اور حل کیا ہے اس کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سید منور حسن کا کہنا تھا کہ اس کا علاج تو یہی ہے ایک یا دو بڑی کامیابیاں ضروری ہیں اور ان میں سے ایک الیکشن میں کامیابی بھی ہے اور پاکستان میں تو الیکشن کی کامیابی تو پنرہ بیس سیٹوں کی کامیابی بھی شمار کی جاتی ہے، اور اگر ایسا ممکن ہو گیا تو امید ہے کہ حالات کی بہتری کی کوئی امید نظر آتے ہی عوام  بڑی تعداد میں آپ کے ساتھ ہوں گے جیسے  کچھ فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے اور کچھ بعد میں۔
سوشل میڈیا پر اسلامی تحریک کے کارکنان کے نام پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تحریکوں کے بہت کم لوگ سوشل میڈیا پر موجود ہیں آپ لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ آپ نے اس خلاء کو پرکیا ہے اور اب جب کہ دنیا میں حالات کے اعتبار سےان گنت پلیٹ فارم وجود میں آئے ہیں تو جن کے بارے میں معلوم نہ ہو اس کی مخالفت نہ کریں ممکن ہے کہ ہم غلط فہمی کی بنیاد پر کسی صحیح چیز کی مخالفت کر بیٹھیں اور وہ نقصان کا باعث بن جائے،جن کے بارے میں معلوم ہو ان کی سپورٹ کریں اور اس کا ساتھ دیں 
سید منور حسن کے ساتھ 30 منٹ کی طے شدہ ملاقات لگ بھگ ایک گھنٹہ تک جای رہی سید صاحب نے کمال محبت سے ہمیں وقت دیا اورملاقات کے اختتام پر دروازے تک ہمیں رخصت کرنے آئے ایسے لوگ پہاڑی کا وہ چراغ ہوتے ہیں جو خود جلتے اور دوسروں کو اپنی روشنی میں راستہ دکھاتے ہیں۔

................................................................................

................................................................................
.