‏معاشرہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏معاشرہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 28 مارچ، 2016

یہ کس کا لہو ہے،کون مرا

2 comments
بچوں سے وعدہ کر رکھا تھا رزلٹ آجائے تو آپ سب کو سیر کیلئے لے چلوں گا ہم کسی تفریحی مقام پہ جائیں گے کسی پارک میں جھولے جھولیں گے ہلا گلا کریں گے خوبصورت نظاروں سے آنکھوں کو تراوٹ ملے گی سب کے پسند کے کھانے ہوں گے اور بہت کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بچے کا رزلٹ ابھی باقی تھا  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سو پروگرام کو پایہء تکمیل تک پہنچنے میں کچھ دیر تھی میں کل ہی مسز سے کہہ رہا تھا کہ ابھی بچوں کو بھی کہیں لے کے جانا ہے

اور پھر شام ڈھلے سوشل میڈیا کے ذریعے ملنے والی خبروں نے دل کی دنیا کو الٹ پلٹ کردیا،لاہور کے تفریحی پارک میں ہونے والے دھماکے نے خون کے آنسو رلا دیا جذبات کے اظہار کو الفاظ نہیں،اس باپ کے جذبات کیا ہوں گے کے جس کے تین بچے اس دھماکے میں شہید ہو گئے اور جس کے بیٹے نے آج گلشنِ اقبال جانے کی ضد کی تھی، اس خاندان کے لوگوں پہ کیا گزری ہوگی جن کے آٹھ پیارے اس دھماکے میں جان کی بازی ہار گئے، بابا اور ماما کی انگلی پکڑے سیر کو آنے اور جھولے جھولنے کی خواہش میں موت کی سولی پہ جھول جانے والی کٹی پھٹی لاشوں،کسمساتے پھولوں اور ننھی کلیوں،کے پرسے کو الفاظ میسر نہیں ہیں اس لئے کہ  بہت سے احساسات وجذبات ایسے ہوتے ہیں جن کےاظہار کیلئے انسان اپنی تمام نثری، شعری اور ادبی صلاحیتوں کے باوجود صحیح الفاظ ڈھونڈھنے میں ناکام رہتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ الفاظ کے سارے خزانے میں، انکی ترجمانی کیلئے کوئی موزوں لفظ موجود نہیں ہے
لیکن غم واندوہ میں ڈوبے ملک  میں،زخمی دلوں اور لہو لہو آنسوؤں سے لبریز آنکھیں لاہور کے ہسپتالوں میں دیکھنے والے اس منظر سے کچھ حوصلہ پاتی ہیں کہ خون دینے والوں کی ایک لمبی قطار ہے حوصلے بلند ہیں اور اپنے بچوں کو ساتھ لئے اپنے بیٹوں کو لہو دینے کیلئے ہسپتالوں میں موجود مائیں حوصلوں کو جلا بخشتی ہیں اور تو اور ڈیوٹی پہ موجود ایک ڈاکٹر کی تصویر بھی نگاہوں سے گزری جو سفید اوورآل میں ملبوس خون کی بوتل عطیہ کر رہا ہے

لیکن سوال تو یہ ہے ؟؟؟
کہ آخر کب تک ہم اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے اور ہمارے حکمران "دشمنوں" اور "دوست نما دشمنوں" کی سازشوں سے باخبر ہونے کے باوجود کب تک مصلحتوں کا شکار رہیں گے
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار 

خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد 

اتوار، 13 مارچ، 2016

تباہی کا طوفان

5 comments

شیر خان میرا پڑوسی تھا،میں نے ہوش سنبھالا تو اسے اسی مکان میں رہائش پذیر دیکھا اس کی بیوی ماسی نوراں اس کی ماموں زاد بھی تھی، "شیرا" سارے محلے کے بچوں کا "ماما" اور نوراں سب کی "ماسی" ۔ شیر خان پیشے کے لحاظ سے مستری تھا محنت مزدوری کرتا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا،رب نے اسے چار خوبصورت بیٹیوں سے نوازا تھا،بیٹے کی خواہش اسے پاگل بنائے رکھتی، بیٹے کیلئے ایک اور شادی کی خواہش گھر میں جھگڑوں کو جنم دیتی اکثر "برتن ٹکراتے"  اور پھر خاموشی چھا جاتی کچھ دن گزرتے کہ یہ "کھٹ مکھٹ" پھر سے شروع ہو جاتی، روز روز کی "چخ بخ" بڑھتی چلی گئی اوراب اکثر ایسا ہوتا کہ بات "برتنوں کے ٹکرانے" سے "مار کٹائی" کی صورت اختیار کر جاتی، شیر خان غریب تو تھا ہی "مسکین" بھی تھا بیوی کی نسبت کمزور لیکن تھا ایک محبت کرنے والا آدمی، جتنی اسے بیٹے کی چاہ تھی اس سے کہیں بڑھ کے اپنی بیوی اور بیٹیوں سے محبت کرتا اور اسی محبت میں اس نے اپنا مکان بھی بیوی کے نام کر دیا تھا لیکن مقابلے میں یہ ماں بیٹیاں اس کی بیٹے کی خواہش پر اس سے خوب جھگڑا کرتیں اور پھر ایک دن ماں بیٹیوں نے مل کر اس کی پٹائی کر دی،اگر بات پٹائی تک ہی رہتی تو اور بات تھی ماں بیٹیاں تھانے جا پہنچیں اور یوں زندگی میں پہلی بار شیرخان کو رات حوالات میں گزارنا پڑی صبح محلے کے چند بزرگوں کی مدد سے معاملہ رفع دفع ہو گیا، ماسی نوراں بہت خوش خوش ہر کسی کو بتاتی پھِرتی کہ ایک رات تھانے گزار کے آیا ہے ناں تو اب بالکل "سیدھا" ہو گیا ہے ایک ہفتہ بھی گزرنے نہیں پایا تھا کہ معلوم ہوا "ماما شیرا" نے ماسی نوراں کو طلاق دے دی اور نئی شادی کر لی،شیرا بیٹے کا باپ بن پایا یا نہیں یہ تو معلوم نہ ہو پایا لیکن یہ پانچوں ماں بیٹیاں مرد کے سائے سے محروم ہو گئیں اب گھر کا بوجھ بھی  انہیں خود ہی اٹھانا تھا نوراں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی اور اس کی "پھول سی بچیاں" لوگوں کے برتن مانجھتیں، وقت پر لگا کے اڑتا رہا بچیاں اہلِ محلہ کی کوششوں سے پیا دیس سدھار گئیں اور ماسی نوراں منوں مٹی تلے جا سوئی مامے شیرے اور ماسی نوراں کے نام وقت کے گرداب میں کہیں گم ہو گئے لیکن پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے والے حقوق خواتین نامی بل نے مجھے پھر سے "ماسی اور ماما" یاد دلا دئے
خواتین کے حقوق کے نام پر بل منظور کرنے والوں کو شاید معلوم نہیں کہ مرد کو پولیس کے ذریعے گھر سے نکال دیا جائے تو واپسی کے سارے رستے بند ہو جاتے ہیں ، مرد کے پاس وہ تارپیڈو ہے جس سے گھر کی کشتی تباہی سے دوچار کی جاسکتی ہے ،کوئی جج مرد کو طلاق دینے سے نہیں روک سکتا ، عورت تو غصے میں بس روٹھ سکتی ہے روٹھ کر میکے نکل جاتی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتی اور شوہر اس کو منا کر لے آتا ہے ، مگر شوہر یہ ذلت برداشت نہیں کرے گا طلاق دے کر نکلے گا اور کوئی قانون مرد کو طلاق دینے سے نہیں روک سکے گا ،ان قانون سازوں نے عورت سے ہمدردی نہیں کی بلکہ اسے اجاڑنے کی بنیاد رکھ دی ہے، اس قانون سے معاشرے میں طلاق اور گھروں کے اجڑنے کا وہ طوفان اٹھے گا کہ کہیں بھی کسی کو پناہ نہیں ملے گی اور جب طوفان آتے ہیں ناں تو اونچے محلوں میں بسنے والے بھی ان کی دست برد سے محفوظ نہیں رہ پاتے

منگل، 2 جون، 2015

اٹل حقیقت

1 comments

سادگی کے ساتھ زندگی بسر کرتے اسے ایک عمر گزر گئی محنت و مشقت تو اس کی "گھٹی" میں "رچی بسی" تھی، اپنے ہاتھوں سے برتن بنانا آباؤ اجداد سے اس کا پیشہ چلا آرہا تھا،اس کے بیٹے گاؤں کی زندگی ترک کرکے شہر میں جابسے لیکن اس نے گاؤں چھوڑنے سے انکار کر دیا کہ بس"جینا مرنا" یہیں ہو گا، محنت مشقت کےعادی اس شخص کی صحت بھی بلا کی تھی "خشک روٹیاں" کھا کے 80 سال کی عمر میں بھی جوان دِکھتا تھا،عجیب سادہ آدمی تھا زندگی کی 80 بہاریں گزار دیں لیکن کبھی گاڑی میں سفر نہیں کیا اس خوف سے کہ گاڑیوں کے ایکسیڈنٹ میں لوگ مر جاتے ہیں،
"تایا جان" اس کا تذکرہ کر رہے تھے اور میں کمال حیرت سے ان کی باتیں سنے جا رہا تھا کیا آج کے دور میں بھی ایسا ممکن ہے کہ کوئی پیدل سفر کو گاڑی پہ سفر کرنے پہ ترجیح دے لیکن مجھے بتایا گیا کہ وہ تو 30 میل دور بسنے والی ہمشیرہ سے ملنے بھی ہمیشہ "پیدل" ہی چل دیتا تھا ،اور کل صبح بھی ہمشیرہ سے ملنے کیلئے گاؤں سے پیدل نکل کھڑا ہوا۔ کوئی تین میل ہی چلا تھا کہ پرانے "گرائیں" غلام نبی سے ملاقات ہوگئی اور جب دو دیوانے یار مل بیٹھے تو روڈ کنارے ہی محفل سجا لی باتوں ہی باتوں میں وقت گزرنے کااحساس ہی نہ ہوا اور فرشتئہ اجل آپہنچا روڈ سے گزرنے والی کار کا ٹائر نکلا اور گاڑی "مست اونٹ" کی طرح "جھومتی" ان دونوں لنگوٹیوں سے آٹکرائی۔ "جمعہ خان" جو کبھی موت کے خوف سے گاڑی پہ سوار نہ ہوا تھا گاڑی ہی کی ٹکر سے داعیِ اجل کو لبیک کہہ گیا اور اس کا "لنگوٹیا" یار موت وحیات کی کشمکش میں ہسپتال جا پہنچا۔ موت کے خوف سے گاڑی میں سوار نہ ہونے والا "چاچا جمعہ خان" اس بات سے بے خبر رہا کہ موت تو انسان کے سائے کی طرح ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے جو ایک اٹل حقیقت ہے اور جس سے فرار ممکن نہیں۔ 
بے شک سچ فرمایا اللہ ب العزت نے
اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یُدۡرِکۡکُّمُ الۡمَوۡتُ وَ لَوۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ بُرُوۡجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ 
تم جہاں کہیں (بھی) ہوگے موت تمہیں (وہیں) آپکڑے گی خواہ تم مضبوط قلعوں میں (ہی) ہو(سورۃ النساء  آیت 78)

جمعہ، 1 مئی، 2015

مزدوروں کادن

1 comments
ایک عجیب رواج چل پڑا ہے بس سال میں ایک دن منا لو اور پھر سب بھول جاؤ کبھی ماؤں کا دن تو کبھی استاد کادن کبھی مزدوروں کا دن تو کبھی محبت اور پیار کا دن اور اغیار کی دیکھا دیکھی ہم بھی اب بس "سن" ہی مناتے ہیں آج پاکستان کے طول وعرض میں بھی مزدوروں کا دن منانے کیلئے قومی تعطیل ہے لیکن مزدور بیچارا پھر بھی اپنی دیہاڑی تلاش کرنے کو چوکوں اور چوراہوں میں کھڑا ہے چوک میں کھڑے مزدور سے جب میں نے سوال کیا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ آج ملک میں تمہارے نام پر چھٹی ہے تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا "صاحب لیکن میں چھٹی نہیں کر سکتا اس لئے کہ اگر چھٹی کروں گا تو شاکو میرے بچے بھوکے ہوں گے مزدوری اس لئے کرتا ہوں کہ دو وقت کی روٹی روزیکا بندوبست ہو جائے مجھے کیا پاکستان چھٹی کرے یا پوری دنیا مجھے تو مزدوری کرنا ہے" 

پاکستان کا مزدور اپنے حقوق سے کس قدر دُور ہےاس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک عام محنت کرنے والا شخص، دیہاڑی کرنے والا اورمِل ورکر غریب، کمرتوڑ اورمنہ زور مہنگائی کے ہاتھوں مسائل کے گرداب میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔ مہنگائی کے عفریت نے اکثریتی آبادی کو دووقت کی روٹی سے بھی محروم کردیا ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 300 سے 400 فیصد اضافہ ہوگیا ہے اور افراطِ زرمیں اضافے اور بجلی کی عدم دسیتابی نے پاملک بھر کے لاکھوں مزدوروں کو بے روزگار کر دیا ہے ان حالات میں سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا ایک دن منا لینے سے کیا ہم کسی کا حق ادا کر سکتے ہیں؟
نبی مہربان ﷺ نے تو اپنے ہاتھ سے مزدوری کرنے والے کو اللہ کا دوست قرار دیا اور یہ حکم ارشاد فرمایا کہ مزدورکی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اداکرو۔ مزدورکی اُجرت کم ادا کرنے پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ روز ِقیامت مَیں اس شخص کے خلاف ہوںگا جو مزدور سے پورا کام لے مگر اس کو اُجرت پوری نہ دے۔آپ ﷺ نے ایک بدو(دیہاتی) سے ہاتھ ملایا تو اس کے ہاتھوں کی سختی سے متعلق اس سے استفسار کیا اس شخص نے جواب دیا کہ رزقِ حلال کمانے اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے پتھرکی ایک کان میں کام کرتا ہوں جس کی وجہ سے میرے ہاتھ سخت ہو گئے ہیں سرکارِ دوجہاںﷺ نے اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور فرمایا کہ جو ہاتھ رزقِ حلال کمانے کیلئے پتھر کوٹتے ہوئے سخت ہو جائیں وہ اس قابل ہیں کہ ان "نبوّت" ان کا بوسہ لے 
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ محض ایک دن منانے کی بجائے ہم آگے بڑھیں اور معاشرے میں مزدور کو اعلٰی مقام دیں کہ جس کی محنت کی بدولت نظامِ زندگی رواں داں ہے

ہفتہ، 25 اپریل، 2015

نیکی

3 comments

سوشل میڈیا پراوٹ پٹانگ حرکتیں کرنا بےمقصد شاعری،بے تحاشا گروپس اور پیج جہاں وقت کے ضیاع کاباعث ہیں تو وہیں انسانی "نامہ اعمال" میں کچھ فضولیات کے اندراج کا باعث بھی لیکن اس سب کچھ کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو آج کے اس دور میں بڑھتے ہوئیے اس غیر روایتی میڈیا کو اپنی اور دوسروں کی آخرت سنوارنے کیلئے استعمال کرتے ہیں برادرِ محترم محمد سلیم کا نام اس فہرست میں بہت اوپر لکھا نظر آتا ہے۔ تو بات ہو رہی تھی سوشل میڈیا کی اوٹ پٹانگ حرکتوں کی، لوگوں کی دیکھا دیکھی چند دن پہلے میں نے بھی ایک سٹیٹس ڈال دیا لائکس اور کمنٹس کی لائن لگنا شروع ہوئی ہی تھی کہ ایک دوست کی طرف سے ان باکس پیغام موصول ہوا واہ جی واہ۔ "گناہ" کا ثواب کماکر فیس بک پر اسکے ہزاروں کی تعداد میں گواہ بھی بنالئےاب آپ کے اس "گناہ" والے اسٹیٹس کی وجہ سے جتنے لوگ وہ "گناہ" کریں گے۔۔۔۔ان کے "ثواب" میں سے آپ کا بھی حصہ۔۔۔۔۔۔یعنی "صدقہ جاریہ" ہو گا۔نہ کریں یار۔ کرنا ہی ہے تو چھپ چھپاکر کرلیں
میں نے ان کا پیغام پڑھا اوراپنا سٹیٹس ڈیلیٹ کر ڈالا لیکن جو پڑھ چکے سو پڑھ چکے گناہ کا گواہ جتنوں نے بننا تھا وہ تو بن چکے لیکن اس شخص کیلئے دل سے ڈھیروں دعائیں نکلتی ہیں جس نے میری غلطی کی نشاندہی کی
اس موقع پر نبی اکرم ﷺ کی ایک حدیث مبارک یاد آرہی ہے کہ مومن، مومن کا آئینہ ہے اسے اس میں عیب نظرآئے تو اصلاح کرے، میرے اس بھائی نے میری اصلاح کرکے اپنے مومن ہونے کا حق ادا کیا اس کی نیکی قیامت کے روز یقیناً اس کیلئے باعثِ اجر وثواب ہوگی لیکن میں بھی اس کی نیکی کو ہمیشہ یاد رکھوں گا کہ اس کی یہ نیکی میرے نزدیک بہت بڑی ہے کیوں کہ نبی مہربان ﷺ نے یہاں تک ارشاد فرمایاکہ
 لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقٰی أَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ‘‘ وَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم تَبَسُّمُکَ فِیْ وَجْہِ أَخِیْکَ لَکَ صَدَقَۃٌ۔‘‘ وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ’’ کُلُّ مَعْرُوْفٍ صَدَقَۃٌ ، وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ أَنْ تَلْقٰی أَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِکَ فِیْ إِنبَائِ أَخِیْکَ۔)) 
’’نیکی میں سے کسی چیز کو بھی حقیر نہ جانو۔ چاہے تم اپنے (مسلمان) بھائی کو ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ ہی ملو۔‘‘ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے: ’’تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرا دینا بھی تمہارے لیے نیکی ہے۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے: ’’ہر بھلائی ، خیر کا کام نیکی ہے اور خیر کے کام میں سے یہ بھی ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کو ہشاش بشاش چہرے سے ملو۔ اور یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے ( کنویں والے)ڈول میں سے اپنے بھائی کے برتن میں بھی کچھ ڈال دو۔‘‘ (یوں تمہارے مسلمان بھائی کے دل میں بھی خوشی پیدا ہو گی۔)

جمعہ، 17 اپریل، 2015

سلام تم پر افق کے اس پار جانے والو

1 comments

میں نے کبھی اسے دیکھا نہیں،میں کبھی اس سے ملا نہیں، لیکن یقیناً وہ ایسا تھا کہ اس سے ملنے، اسے دیکھنے، اس سے باتیں کرنے اور اس کی باتیں سننے کو جی کرے۔ میرا اس سے پہلا تعارف تب ہوا جب مجھے سالگرہ کے موقع پراس کی طرف سے عربی میں لکھا دعاؤں بھرا ایک خوبصورت پیغام موصول ہوا۔


پھر وقتاً فوقتاً ان سے بات چیت ہوتی رہتی۔ سینے میں امّت کادردلئے یہ نوجوان "سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے" کی عملی تصویر تھا،اس کا ہر انباکس میسج اس کی گواہی دیتا خوشی کا لمحہ ہو یا درد کی داستاں اس کی طرف سے اس کا پیغام امت کا درد لئے ہوتا
عید مبارک کے ایک پیغام میں لکھا
السلام علیکم
جنابِ محترم ڈاکٹرمحمد اسلم فہیم صاحب
آپ اورآپ کےاہلِ خانہ کو ہم سب کی جانب سےعیدِ قرباں کی خوشیاں مبارک ہوں ۔۔۔۔۔جب بھی ایسے مسرت اور خوشی کے لمحات آئیں تو آپ مکمل خیر و عافیت سے ہوں ۔۔۔۔اپنی نیک تمناؤں میں مجھے اور میرے اہلِ خانہ اور پوری امت مسلمہ کو ضرور یاد رکھیے گا
جزاک اللہ

آپ کا بھائی
عطاءسراجی

 مصر کے مسلمانوں پر "میدان الرابعہ" میں ٹوٹنے والی قیامت کے خلاف چلنے والی سوشل میڈیا تحریک ہو یا بنگلہ دیش کے نام نہاد عدالتی کمیشن کی جانب سے پاکستان پسندوں کو سنائی جانے والی پھانسیوں کے خلاف ردِّ عمل کشمیریوں کی تحریکِ آزادی ہو یا غزہ کے مظلوم مسلمانوں پرڈھائے جانے والے ظلم و ستم کے خلاف اٹھنے والی کوئی تحریک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نوجوان نے "قلم" کا حق ادا کیا۔ ابھی چند دن پہلے ہی تو اس نے  بنگلہ دیش میں قمرالزمان کی پھانسی کے خلاف کیسے خوبصورت الفاظ میں اپنا دردِ دل بیان کیا 
"یہ قانون فطرت ہے کہ اس دنیا میں جو پیدا ہوتا ہے وہ ایک دن ضرور مرتا ہے،اگر دنیا کی زندگی کا انجام موت ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم ایک لمحہ کیلئے زندہ رہیں یا ایک صدی تک زندہ رہیں۔ مرنے والی کی قبر سے دنیا صرف یہ پوچھتی ہے کہ تم زندہ رہے تو کس شان سے زندہ رہے اور مرے تو کس آن سے مرے"
عطاء سراجی خود بھی ایسا ہی تھا زندہ رہا تو پورے قد سے کھڑا رہا اور ہسپتال میں جب وہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھا تو کتنے ہی ہاتھ تھے جو اس کی سلامتی کیلئے ربِّ ذوالجلال کے حضور دست بہ دعا تھے اور آج جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوگیا تو اس حال میں کہ ہزاروں نہیں لاکھوں ہاتھ اس کی مغفرت کیلئے اٹھے ہوئے ہیں 
سلام تم پر افق کے اس پار جانے والو

ہفتہ، 25 اکتوبر، 2014

نمازِجنازہ

2 comments

بلدیاتی الیکشن کی گہما گہمی تھی کاغذات نامزدگی جمع کروائے جاچکے تھے ،امیدوار اپنی اپنی مہم چلا رہے تھے شادی بیاہ کی تقریبات میں حاضری ،جنازوں میں شریک ہونا لازم ہو گیا تھا،کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کا دن تھاسبھی امیدوار ریٹرننگ آفیسر کے آفس پہنچ چکے تھے لیکن ایک امیدوار ابھی تک غیر حاضر تھا کاغذات کی پڑتال کا عمل شروع ہو گیا،امیدواروں سے مختلف سوالات ہو رہے تھے کسی سے سورہ اخلاص تو کسی سے دعائے قنوت سنی جارہی تھی آدھ گھنٹہ گزرا تو وہ امیدوار بھی آموجود ہوا، ریٹرننگ  آفیسر نے استفسار کیا آپ دیر سے کیوں آئے۔جواب ملاایک جنازہ پڑھنے کیلئےچلا گیا تھا اس لئے دیر ہوگئی،ریٹرننگ آفیسر نے ان سے جو نمازِجنازہ سنانے کیلئے کہا تو انہیں چپ لگ گئی آفیسر کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی اور کہنے لگا یہ لوگ آپ کی نمازِجنازہ پڑھیں گے،کمرہ عدالت زعفرانِ زاربن گیا۔کاغذاتِ نامزدگی کی پڑتال ہو گئی،الیکشن بھی ہوگیا جیتنے والے جیت گئے اور ہارنے والے اگلے الیکشن سےامیدیں لگائے سرگرم ہیں۔
کہیں ایسا نہ ہو ہم میں سے کسی کو ایسی ہی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑ جائے
آئیے دیکھتے ہیں نمازِجنازہ کیسے ادا ہوتی ہے اور اس میں کیا پڑھتے ہیں
جنازہ کی نماز میں دو فرض ہیں۔ (۱) تکبیراتِ اربعہ۔ (۲) قیام
اس کیلئے وہی شرائط ہیں جو فرض نماز کیلئے ہیں،نمازِجنازہ میں نہ قراءتِ قرآن ہے اور نہ رکوع و سجود و تشہد ہے،نیّت کرنے کے بعد امام بلند آواز سے اللہ اکبر کہتا ہے اور مقتدی بھی پہلی تکبیر کے بعد اللہ اکبر کہتے ہوئے کانوں تک ہاتھ اٹھاتےہیں اورنماز کی طرح سینے پر ہاتھ باندھ لیتےہیں اس کے بعد ثناء پڑھتےہیں
سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَجَلَّ ثَنَاءُ کَ وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ
اس کےبعدامام ہاتھوں کوکانوں تک اٹھائے بغیردوسری تکبیر کہتاہےدوسری تکبیر کے بعد درود شریف پڑھاجاتا ہے 
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّيْتَ وَسَلَّمْتَ وَبَارَکْتَ وَرَحِمْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ.
اگر یہ والا درود شریف نہ آتا ہو تو نماز والا درودِابراہیمی بھی پڑھا جا سکتا ہے
درود شریف کے بعد تیسری تکبیراوراس کےبعد تمام مومن مردوخواتین کیلئے دعائےمغفرت کی جاتی ہے،
اَللّٰھُمَّ اغفِرلِحَیِّنَاوَمَیِّتِنَاوَشَاھِدِنَاوَغَائِبِنَاوَصَغِیرِنَاوَکَبِیرِنَاوَذَکَرِنَاوَاُنثَانَااللّٰھُمَّ مَن اَحیَیطَہُ مِنَّافَاحیِہِ عَلَی الاِسلَامِ وَمَن تَوَفَّیتَہُ مِنَا فَتَوفَّہُ عَلَی الاِیمَانِ"
اگریہ دعا یادنہ ہوتو جودعایادہووہی پڑھی جا سکتی ہے لیکن وہ دعاجوآخرت سے متعلق ہو اگر کوئی یاد نہ ہو تو یہ پڑھ لینا کافی ہے
"اللّٰھُمَّ الغفِر لِلمُومِنِینَ وَالمُومِنَاتِ"
اگر میّتنابالغ لڑکےکی ہوتومذکورہ بالا دعا کے بجائے یہ دعا پڑھی جاتی ہے
" اللّٰھُمَّ اجعَلہُ لَنَا فَرَطًا وَّ اجعَلہُ لَنَا اَجراً وَّذُخراًوَّاجعَلہُ لَنَا شَافِعا وَّ مُشَفَّعاً "
اوراگر میّت نابالغ لڑکی کی ہو تو اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا لَنَا فَرَطاً وَّاجْعَلْهَا لَنَا اَجْرًا وَّ ذُخْرًا وَّاجْعَلْهَا لَنَا شَافِعَةً وَّ مُشَفَّعَةً پڑھی جائے گی اس کے بعد امام صاحب چوتھی تکبیر کہتےہیں اوراس کےبعد دونوں طرفاَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَةُﷲِ کہتے ہوئے سلام پھیراجاتا ہے بالکل جیسے نمازمیں سلام پھیرتے ہیں

ہفتہ، 30 اگست، 2014

حکمتِ ربانی

3 comments

ٹھنڈی آہیں بھرتی ، ہائی بلڈ پریشر اور بے خوابی کا شکار یہ مریضہ آج جب دوسری بار میرے کلینک میں آئی تو پہلی بار کی نسبت قدرے بہتر تھی،اور آج اتفاق سے جس وقت وہ آئی میرے کلینک میں اس وقت کوئی مریض بھی نہ تھا،اس کا بلڈ پریشر بھی پہلے سے کم تھا او رکچھ وقت کیلئے اب نیند بھی آجاتی تھی اس کے ساتھ آنے والی اس کی بیٹی علاج سے مطمئن تھی۔آج میں نے اس کے مرض کی تہ تک پہنچنے کی ٹھان لی ،میرے اس سوال پر کہ باجی یہ تکلیف شروع کیسے ہوئی وہ خاتون پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور ایک عجیب بات کہی کہ میں نے خدا سے مقابلہ کیا ناں ،سو مجھے اس کی سزا مل رہی ہے،ڈاکٹر صاحب دعا اکیجئے میرا مولا مجھے معاف کر دے میں نے اس کو کھل کر رونے دیااور اس کیلئے ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس منگوایا،پانی پی چکنے کے بعد کچھ پرسکون ہوئی تو میں نے اس سے سوال کیاکہ آخر آپ نے ایسا کیا کر دیا کہ آپ اپنے آپ کو اللہ تعالٰی کے مدمقابل پاتی ہیں ۔اس نے ایک گہرا سانس لیا کچھ دیر تک سوچتی رہی اور پھر سر اٹھا کر یوں مخاطب ہوئی




ڈاکٹر صاحب میری شادی کو 10برس بیت چکے تھے اللہ نے ہر نعمت سے نوازا تھا گھر میں ہر طرح کی آسائشیں موجود تھیں تین بیٹیاں پیدا ہوئیں جن کی وجہ سے ہر وقت گھر میں رونق رہتی، لیکن میں تھی کے بیٹے کی خواہش میں پاگل ہوئی جاتی تھی لیکن جب ہر بار بیٹی ہی پیدا ہوتی توبیٹے کی خواہش مزید بڑھ جاتی، میرا خاوند اس حال میں بھی خوش تھا لیکن میں نے اپنا بیٹا نہ ہونے کی صورت میں کسی اور کا بیٹا گود لینے کا فیصلہ کر لیا۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک طلاق یافتہ خاتون شادی ہو کر ہمارے محلّے میں آگئی جس کا پہلی شادی سے ایک نومولود بچہ تھاجسے دوسرے خاوند نے پرورش کرنے سے انکار کر دیا جب میں نے یہ سنا تو اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے اس کے ہاں جا پہنچی اس خاتون کی منّت سماجت کی کہ وہ بچہ مجھے دے دو میں اسے اپنا بیٹا سمجھ کے پالوں گی،میری باتیں سن کر تو گویا اس خاتون کیلئے بلّی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کے مصداقخوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہااور اپنا بچہ میرے حوالے کرنے پر تیّار ہوگئی۔ میں نے اس سے بچہ لیا اور خوش خوش اپنے گھر کو لوٹ آئی،اب وہ بچہ میری آنکھوں کا تارا تھا میں اس کے لاڈ اٹھاتے نہ تھکتی،بیٹیوں کو بھی گلہ رہنے لگا کہ آپ اب ہمیں کم پیار کرتی ہیں لیکن میں جو بچہ مل جانے پرخوشی سے اتراتی پھرتی تھی مجھے کس کی پرواہ تھی ۔وہ بڑا ہوا تو اسے اچھے سکول میں داخل کروایا اس کی ہر خواہش پوری کی وقت تیزی سے گزرتا رہاتاآنکہ اس نے میٹرک کر لیامیں نے بہت کوشش کی کہ وہ مزید تعلیم حاصل کرے لیکن اس نے کہا کہ وہ اپنے باپ کے کاروبار میں اس کا ہاتھ بٹائے گا میں خوش تھی کہ بڑھاپے میں میرے خاوند کو سہارا مل گیا۔لیکن ابھی میری اصل آزمائش باقی تھی میرے خاوند نے اس کی دلچسپی دیکھتے ہوئیکاروبار اس کے نام کردیا اور اسے ایک گاڑی بھی خرید دے تاکہ کاروباری سلسلے میں دوسرے شہر جانے میں اسے مشکل نہ پیش آئے۔ کچھ ہی عرصے بعد ہمارے اس بیٹے کا اٹھنا بیٹھنا غلط سوسائٹی میں ہو گیا ہمیں معلوم ہوا تو سمجھانے کی کوشش پر گلے پڑنے کو آگیا،کچھ ہی عرصہ بعد اپنے محلّے ہی کے ایک دوست کو معمولی تلخ کلامی پر قتل کر ڈالا اور ہماری نیک نامی پر ایک اور دھبہ لگا کر آج کل جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہے،ڈاکٹر صاحب میں نے خدا کا مقابلہ کیا اس نے مجھے بیٹا نہیں دیا ناں تو میں نے کسی اور کے بچے کو اپنا بیٹا بنا کر اس کی ولدیت کے خانے میں اپنے خاوند اور خود کو اس کی ماں کہلوا کر فخر کا اظہار کیا تو خدا نے مجھے دنیا میں ایسی سزا دے دی کہ اب بیٹا کال کوٹھڑی میں سزا کا منتظر ہے محلّے میں سر اٹھا کے جینے کے قابل نہیں رہے اور بیٹے کی محبّت دل ہلائے دیتی ہے معلوم نہیں اس کا کیا بنے گااورانہیں سوچوں میں راتوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں
وہ خاتون دوا لینے کے بعد اپنے گھر لوٹ گئی لیکن مجھےقرآن مجید کی سورہ شورٰی کی ان  آیات  کی تفسیر سمجھا گئی گئی  جن میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا
 لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَأَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا(سورۃ الشوریٰ آیت نمبر 49 ،50)
اللہ فرماتے ہیں کہ میں زمینوں اور آسمانوں کا مالک ہوں پیدا کرتا ہوں جو چیز چاہتا ہوں جس کو چاہتاہوں بیٹیاں عطا کرتا ہوں اور جس کو چاہتا ہوں بیٹے ۔ چاہوں تو جڑواں جڑواں بیٹے اور بیٹیاں دے دوں اور میں مالک ہوں چاہوں تو کچھ بھی نہ دوں ۔

منگل، 3 جون، 2014

پہاڑی کا چراغ

3 comments
ایک ایسے دور میں جب لوگ کہیں لگی ہوئی آگ کو بجھانے کی بجائے اس کی فوٹیج بنانے، کسی ڈوبتے کو بچانے کی بجائے اس کی ویڈیو بنانے اور گرتی نعشوں کو سنبھالا دینے کی بجائے ان کی تصویریں بناتے پھرتے ہوں تو ایسے میں اگر کوئی شخص ایک بچے کو بچانےکیلئے اپنے آپ کو دریا کی موجوں کے حوالے کر دے تو یقیناً یہ بات اس پر صادق آتی ہے کہ وہ شخص تو "پہاڑی کا چراغ" ہے جو خود تو جلتا ہے اور جلتے جلتے اس کی زندگی تمام ہوجاتی ہے لیکن دوسروں کیلئے نشانِ منزل چھوڑ جاتا ہے
میں نے مظفر آباد میں دو نوجوانوں کو دریائے نیلم کی تندوتیز بپھری ہوئی موجوں میں گم ہوتے دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو جسم میں ایک سنسنی دوڑ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھلتی کودتی راستے میں آنے والی ہر چیز کو نیست ونابود کرتی بپھری موجیں 
اور دریائے کنہار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو ان دنوں اس قدر بپھرتا ہے کہ سینکڑوں جانیں اس کا لقمہ بن جاتی ہیں میں نے اس کی طغیانی بھی دیکھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کا سکوت بھی 
کراچی ۔۔۔۔۔۔ جی ہاں وہی جو کبھی روشنیوں کا شہرتھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی کراچی سے تعلق رکھنے والا شاہین صفت نصراللہ شجیح جو یقیناً "پہاڑی کا چراغ" تھا جو خود تو جلتا ہے لیکن دوسروں کو راستہ دکھاتا ہے۔

ذرا دیکھئے تو کس قدر اعتماد ہے اس ماں کے لہجے میں جس نے اپنے بیٹے کو نصراللہ شجیح کے حوالے کر دیا،یقیناً وہ اسی اعتماد کے قابل تھا 
"میں ارسل کو کبھی نہ جانے دیتی میں نے تو کبھی اسے گھر سے مارکیٹ تک نہیں بھیجا تھا تو اتنی دور ٹور پر کیسے جانے دیتی مگر جب اس نے آکر بتایا ماما ہمارے ساتھ سر نصراللہ جارہے ہیں تو میں ایک لمحہ کو بھی انکار نہ کرپائی کہ اب انکار کوئی جواز ہی نهیں بچا تھا وہ جو ایک باپ سے زیادہ حفاظت کرنے والے وہ جو بچوں پر شیر کی سی نگاہ رکھنےکے باوجود ان کے لیے سراپا محبت تھے اب میں بھلا کیسے انکار کرتی اور ارسل کے جانے تیاری کرنے لگی ۔۔۔ میں اکثر ارسل کی شرارتوں پر اسے دھمکی دیتی کہ کل ہی میں آتی ہوں اسکول شجیع بھائی کو بتاتی ہوں اور ارسل وہیں ایک دم ڈھیر ہوجاتا مما نہیں بس سر نصراللہ کو نہیں بس انکو نہیں شکایت کیجیے گا مما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ !!
جانے والا اپنے پیچھے کیسی یادیں چھوڑ گیا 
لیکن وہ گیا ہی کب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو ہماری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا
کہ وہ جو یادوں میں بس جاتے ہیں
کب جاتے ہیں
ہر آن ہمارے درمیان موجود
اسی طرح مصروفِ عمل
وہی پہلے کی طرح بھلائیاں بانٹتے ہوئے
ہم ان سے راہنمائی پاتے ہیں
ہم ان کی باتیں سنتے ہیں
انہی کی باتیں کرتے ہیں
ان کا زندگی بھر کا کام ہمیں زندگی بھر یاد دلاتا ہے کہ 
زندگی تو اسے کہتے ہیں
دنیا انہیں نگاہوں سے اوجھل پاتی ہے
لیکن
ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ہمارے درمیان موجود ہیں
ہمارے دکھ سکھ میں شریک
ہم تو ان کی ایک مسکراہٹ نہیں بھول سکتے
زندگی بھر کا احسان کیسے بھلایا جا سکتا ہے
وہ جو اپنا سب کچھ ہمیں سونپ گئے
اور پھر بھی خالی ہاتھ نہیں
ان کا زادِ راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا اثاثہ
ہمسفری کی یہ جانی پہچانی روایت
قافلہ چل رہا ہو تو ایسے ہی ہوتا ہے
کہ کسی کا سنگِ میل  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  کسی کی منزل 

منگل، 27 مئی، 2014

دوتصویریں معاشرے کے البم سے

7 comments
پینٹ شرٹ میں ملبوس،آنکھوں پر Ray-ban کا چشمہ لگائے،کلین شیو، 50 کے پیٹے کا وہ آدمی میرے کلینک میں داخل ہوا تو پہلی نظر دیکھنے میں لبرل قسم کا آدمی لگا۔ یہ میری اور اس کی پہلی ملاقات تھی دو دن پہلے ہی میں نے اسے فون کیا تھا اس نے میری میز پر 50000 روپے رکھے اور بتایا یہ عشر کی رقم ہے میں نے "پھلائی" کچھ درخت
بیچےتوسوچااس کا عشر آپ کودےآؤں.میں(کہ جو"داڑھی" رکھ کر اپنے آپ کو بہت دین دارسمجھنے لگ گیا تھا)حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا، میری حیرانگی کو بھانپتے ہوئے کہنے لگےدرخت بھی زمین سے حاصل ہونے والی فصل ہی کی تو مانند ہوتے ہیں ناں اس لئے اس فصل پر بھی عشر لاگو ہوتا ہے اس لئے میری اس فصل کا عشر50000روپے بنتا ہے جو آپ "آغوش" کیلئے رکھ لیں میں نے ان کے نام کی رسید کاٹی اور ان کے حوالے کر کے شکریہ اداکیا تو ایک اور حیرت میری منتظر تھی
ڈاکٹر صاحب شکریہ کیسا یہ تو ایک فرض تھا جو ادا کیا گیا
شکریہ تو آپ کا جو ہمیں اس فرض کی ادائیگی کا موقع فراہم کرتے ہیں
اوروہ جانے کیلئے کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اوراپنے لئے بے پناہ احترام چھوڑ گئے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حاجی صاحب اپنے اہل وعیال کے ساتھ ایک طویل عرصے سے میرے پاس علاج معالجے کیلئے تشریف لاتے ہیں علاقے کے ایک بڑے زمیندار ہیں،میں نے سوال کیا کتنی گدم ہو جاتی ہو گی آپ کی فرمانے لگے کوئی دو ہزار بوری سے تو زائد ہی ہو جاتی ہوگی، میں نے عشر کے حوالے سے ایک بروشر ان کے پوتے کے ذریعے ان تک پہنچایا اور کچھ فیڈ بیک کیلئے ان سے رابطہ کیا تو فرمانے لگے جی ایک بیگ تو ہم پہلے ہی بھجوا چکے ہیں چلیں دیکھتے ہیں کوشش کرتے ہیں کہ آپ کیلئے بھی کوئی گنجائش نکل آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
کہاں تو درختوں کی پیداوار پر بھی عشر کی رقم اٹھائے مستحق تلاش کرتے لوگ اور کہاں دوہزار بوری سے زائد گندم پر بھی عشر کی ادائیگی میں پس وپیش
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کچھ ہی عرصہ بعد مجھے ایک  نواحی دیہات میں جانے کا اتفاق ہوا تو جنگل میں منگل کا سماں دیکھا دور تک پھیلی ہوئی چار دیواری کے ساتھ ساتھ میری گاڑی دیر تک محوِ سفر رہی پوچھنے پر معلوم ہوا یہ انہیں خان صاحب کی ملکیّتی زمین ہے جو میرے پاس کچھ عرصہ پہلے عشر کی رقم لے کے آئے تھے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اور آج جب میں نے حاجی صاحب سے ان کی فصلوں کی صورتحال کی بابت پوچھا تو فرمانے لگے بس جی ڈاکٹر صاحب اب کی بار تو حالات بہت خراب ہو گئے بارشوں سے کٹائی شدہ گندم تباہ ہوگئی بھوسہ سیاہ ہو گیا اور مشکل ہے کہ اخراجات بھی پورے ہو پائیں
بے شک سچ فرمایا اللہ رب العزت نے کہ
جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں،ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے7 بالیں نکلیں اور ہر بال میں 100دانے ہوں۔ اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے افزونی عطا فرماتا ہے۔ وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی سورہ بقرہ آیت261

منگل، 6 مئی، 2014

کیسا مسیحا

9 comments
وہ میرے سامنے کرسی پر بیٹھی زاروقطار روتے ہوئے ڈاکٹر کو بددعائیں دئیے جارہی تھی اس کے آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ساری طفل تسلیاں بے کار تھیں ساتھ آنے والی خاتون الگ سے پریشان تھی۔
چند دن پہلے ہی وہ خاتون میرے پاس گردے میں اٹھنے والے شدید درد کی دوا لینے آئی تھی دوا دینے سے درد تو وقتی طور پر ٹھیک ہو گیا لیکن مرض کی بہتر تشخیص کیلئے میں نے اسے چند ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا کیونکہ اس کے بقول یہ درد اس سے پہلے بھی اکثر بہت شدّت کے ساتھ ہوتا رہا تھا اور دس سال قبل تو ایک نیفرالوجسٹ کے مشورے پر ایک گردے میں پتھری کا آپریشن بھی کروا چکی تھی، اس لئے میں نے اسے Sonography اور KUB X.Ray کیلئے ایک اچھی شہرت کے حامل ڈائگنوسٹک سنٹر ریفر کر دیا۔دوسرے ہی دن مریضہ نے فون کرکے آنے کا وقت طے کر لیا۔اس کی رپورٹس میرے سامنے رکھی تھیں دائیں گردے میں پتھری کی نشاندہی کی گئی تھی

لیکن ساتھ ہی ایک عجیب بات تھی اس رپورٹ میں
Left Kidney absent

ڈائیگنوسٹک سنٹر کال کرکے متعلقہ سونالوجسٹ سے بات کرنے پر معلوم ہواکہ اس خاتون کا ایک گردہ آپریشن کے ذریعے نکال دیا گیا ہے، جب میں نے اس خاتون سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ ڈاکٹرنے یہی کہا تھا کہ گردے میں پتھری بن گئی ہے اور اس کا حل آپریشن کے سوا کچھ بھی نہیں اس نے ہمیں پتھری کے بارے میں اتنا خوفزدہ کیا کہ ہم مجبوراً آپریشن پر تیار ہوگئے


اور اس نے آپریشن کے بعد گردے سے نکلنے والی بتھری بھی ہمیں دکھائی


لیکن جب میں نے اسے بتایا کہ ڈاکٹر نے بذریعہ آپریشن پتھری نکالنے کی بجائے تمہارا گردہ ہی نکال دیا ہے تو اس نے زاروقطار رونا شروع کر دیا
 خاتون رو رہی تھی اور اس ڈاکٹر کو بددعائیں دے رہی تھی کہ میں نے اسے کسی وکیل سے مشورے کے بعداس ڈاکٹرکے خلاف مقدمہ کرنے کا مشورہ دیا تو اس نے ایک حیرت انگیز انکشاف کیا کہ کچھ عرصہ قبل ہی ٹریفک کے ایک حادثے میں اس ڈاکٹرکی گاڑی کو آگ لگ گئی اور جل کر راکھ ہوگیا۔بعد ازاں معلوم ہوا کہ اس ڈاکٹر نے متعدد مریضوں کی پتھری کو آپریشن کے ذریعے نکالنے کے بہانے ان کا ایک گردہ نکال لیا۔
اپنی عارضی خوشیوں کیلئے لوگوں کی زندگیوں کو جہنّم بنا دینے والا ناجائز طور پر کمائی جانے والی اپنی ساری دولت دنیا میں ہی چھوڑ کر اس دنیا میں ہی جہنم واصل ہو گیا

منگل، 29 اپریل، 2014

بے حسی موت ہے بیدار زمانے کیلئے

4 comments


اس تصویر کی کاٹ کتنی گہری ہے ایک بوڑھی خاتون اپنے بچوں کے باپ کیلئے دربدر کی ٹھوکریں  کھا رہی ہے یہی نہیں بلکہ وہ گمشدہ افراد  کے لواحقین کیلئے ایک سہارا اور ان  کیلئے اٹھنے والی ایک توانا آواز بھی ہے۔ دکھوں اور تکالیف کی ماری اس کمزورخاتون کی آواز سے خوفزدہ حکمران یہ بات نہیں جانتے کہ مظلوم کی آہ اور رب کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا
آمنہ مسعود جنجوعہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کبھی اس سے ملا نہیں، میں نے کبھی اس سے دیکھا نہیں، شاید ایک آدھ بار کبھی اس سے فون پر بات ہوئی  تھی، غیر قانونی طورپر ملکی ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا ہو جانے والے افراد کیلئے، اپنا دکھ بھلائے دوسروں کیلئے انصاف کے حصول کیلئے کوشاں، گلی گلی ،شہر شہر ان کیلئے آواز بلند کرتی پھرتی ہے ، اسلام آباد کے مضبوط قلعوں میں بلند حکمران اس کمزور سی خاتون کی آواز اور جدوجہد سے اس قدر پریشان ہیں کہ اسلام آباد کی فضاؤں نے کل وہ منظر دیکھا کہ ہر دردِدل رکھنے والا شخص اپنے دل میں ایک چبھن محسوس کئے بغیر  نہ رہ سکا،آمنہ مسعود جنجوعہ  اور اس کے ساتھیوں پر تشدد کی انتہا کر دی گئی، لاٹھیوں اور مکوں  سے زدو کوب کرتے ہوئے انہیں سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا گیا ،تف ہے ایسے حکمرانوں اور ان کے چیلوں چانٹوں پر جو اپنے حقوق کیلئے اٹھنے والی ایک کمزور آواز بھی برداشت نہیں کر سکتے
ظلم وتشدّد اور اس کمزور خاتون کو اٹھا کر پولیس گاڑی میں ڈالنے کی تصویریں دیکھ کر مجھے تاریخ کے جھروکوں سے ایک حکمران یاد آرہا ہے، عین حالت جنگ میں جب ہر روز سینکڑوں شہ سوار موت کے گھاٹ اتر رہے تھے اور ہر لشکر اپنی فتح کیلئے دوسرے کو تہ تیغ کر دینے کیلئے کمر بستہ تھا۔ایک عیسائی عورت روتی پیٹتی ہوئی سلطان کی خدمت میں حاضر ہوتی ہے کہ جنگ زدہ ماحول اور دھول اڑاتے لشکروں کے درمیان اس کا لخت جگر کہیں کھو گیا ہے۔یہ بات بجا کی فریاد کرنے والی دشمن قوم سے تعلق رکھتی تھی لیکن وہ ایک ماں تھی اور یہ فرزند ہی اس کی کل متاع تھی۔
سبز آنکھوں والے سپہ سالار نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ اردگرد کی تمام آبادیوں کا احاطہ کرلیا جائے اور اس عورت کا بچہ تلاش کر کے لایا جائے۔
اور پھر ۔۔۔۔
ابھی ایک پہر بھی نہیں گزرا تھا کہ مغرب سے مسلمانوں کی سرزمین پر حملہ آور ہونے والوں میں شامل اس خاتون کا لخت جگر تلاش کر لیا گیا،وہ خوشی سے دیوانہ وار آگے بڑھی اور سلطان کے آگے سجدہ ریز ہو گئی۔
نہیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلطان کی آواز فضاء میں گونجی  
یہ ایک فرض تھا جو ادا کر دیا گیا۔اب تم اپنے لوگوں میں واپس لوٹ جاؤ۔
وہ عظیم الشان حکمران جسے دنیا  "سلطان صلاح الدین ایوبیؒ " کے نام سے جانتی ہے یہ بات بخوبی جانتا تھا کہ
"معاشرے امن وانصاف میں زندہ رہتے ہیں ،ناانصافی اور بدامنی انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے"

ہے کوئی ایسا شخص جو ہمارے حکمرانوں کو بھی یہ بات بتا دے۔
زندگی نام ہے احساس کی بیداری کا 
بے حسی موت ہے بیدار زمانے کیلئے

ہفتہ، 19 اپریل، 2014

لکھ پتی بھکاری

4 comments
میں نے پانچ لاکھ روپے اکٹھے کرکے بابا کو دئیے کہ کہیں کوئی سر چھپانے کی جگہ کوئی گھر بنانے کا سامان کرولیکن بابا نے گھر بنانے کی بجائے اپنا گھر بسا لیا ............... شاہ صاحب اپنی بات کہ رہے تھے اور میں حیران ہوا جا رہا تھا
شاہ جی میرے پرانے مریض ہیں، بلکہ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ میں ان کا فیملی ڈاکٹر ہوں اوراب تو یہ رشتہ دوستی میں ڈھل چکا ہے،اگرچہ "پیر"ہیں لیکن پیروں جیسا مزاج نہیں رکھتے بہت "کھلے ڈلّے" آدمی ہیں۔آج سہ پہر جب وہ بیٹے کی میڈیسن لینے میرے پاس آئے بیٹھے تھے کہ اسی اثناء میں ایک مانگنے والا ہاتھ پھیلائے آپہنچامیں نے اس سے جان چھڑانے کےلئے اس کے پھیلے ہاتھ پر ریزگاری رکھ دی۔

 شاہ جی کہنے لگے ان لوگوں کو تو بالکل بھی کچھ دینا نہیں چاہئے، جب میں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے ایسے لوگ حقداروں کا حق مارتے ہیں۔ پھر خود ہی اپنے ساتھ پیش آنے والا ایک واقعہ سنایا کہتے ہیں ایک مانگنے والا اکثر میرے گھر کے باہر صدا لگایا کرتا تھا اور میں اسے کچھ نہ کچھ دے دیتا کہ غریب آدمی ہے دعا کرے گا ایک عرصہ بیت گیا اور اس سے میری دوستی ہو گئی ایک دن میں نے باتوں ہی باتوں میں میں نے اس سے سوال کیا کہ تم جوان آدمی ہو کوئی محنت مزدوری کرو اور جھگیوں میں رہنے کی بجائے کہیں اپنا گھر بناؤ اور عزت کی زندگی بسر کرو کہنے لگا شاہ جی میں نے پانچ لاکھ روپے اکٹھے کرکے بابا کو دئیے کہ کہیں کوئی سر چھپانے کی جگہ کوئی گھر بنانے کا سامان کرولیکن بابا نے گھر بنانے کی بجائے اپنا گھر بسا لیا اور پڑوس کے جھگی نشینوں کی لڑکی بھگا لے گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہٹّا کٹّا شخص ہاتھوں میں ڈنڈا اٹھائے کلینک میں داخل ہوا اور اپنا کشکول آگے بڑھا دیا، جوان آدمی ہو تم کوئی محنت مزدوری کیوں نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
صاحب کوئی کام نہیں ملتا اورکوئی بھی مجھے کام پر رکھتا ہی نہیں،
اگر کوئی کام ملے تو کرو گے
ملے گا تو کیوں نہیں کروں گا جی

اچھا ٹھیک ہے پھرکل آجاؤ،گاؤں میں ہماراایک رہٹ ہے بس وہاں پربیٹھ کر ڈیوٹی کرنی ہے کہ بیل چلتا رہے تاکہ کھیتوں کو مسلسل پانی کی فراہمی میں کوئی کمی نہ آنے پائے
کہنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی یہ کام تو مجھ سے نہ ہو سکے گا
اچھا توآئندہ یہاں نظر آئے ناں تو پھر تمہاری خیر نہیں
ایک طویل عرصہ بعد جب میں نے کلینک شفٹ کیا تو ابھی صبح صبح کلینک کھولا ہی تھا کہ جانی پہچانی آواز ابھری "اللہ پاک کرم کرے جی" ،،،،،،،،،،،،،،،
اوئے تو پھر آگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا تے ڈاکٹر صاحب تسی اتھے آگئے او(اچھا تو ڈاکٹر صاحب آپ یہاں آگئے ہیں) 
اور پھر میں یہ سن کر تو حیران ہی رہ گیا کہ وہ اب دو ٹرکوں کا مالک ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


پیر، 24 فروری، 2014

جواب ایک سوال کا

4 comments

ایک بچہ جو اس دنیا میں قدم رکھتا ہے ،ایک ننھی کونپل پھوٹتی ہے اسے ایک تناور درخت بننے تک ایک ایک لمحہ رب ذوالجلال اس کیلئے اس کی ماں کے دل کو محبت اور شفقت سے لبریز کر دیتا ہے،دن مہینوں اور مہینے سالوں میں بدلتے چلے جاتے ہیں لیکن دن ہوں یا سال یہ لمحے ہی تو ہوتے ہیں گزرتے کیا دیر لگتی ہے،پہلے وہ بچہ ایک ذمّہ داری تھا لیکن اب وہ ایک ذمّہ دار بن جاتا ہے،اب وہ ایک ہوش مند انسان ہے اپنا برا بھلا سمجھ سکتا ہے، کھرے کھوٹے میں تمیز کرنا اب اس کیلئے کوئی مسئلہ نہیں، کوئی چیز قبول کرنا یا اسے مسترد کرنا اب اس کی بصیرت اور بصارت کا پتہ دیتی ہے، لیکن اس سب کچھ کے باوجوداسے خالق یونہی تنہا تو نہیں چھوڑ دیتا۔ہر لمحہ اس کی راہنمائی اور ہدایت کا انتظام ہوتا ہے،کوئی چیز اس کی نگاہوں سے اوجھل نہیں رہنے دی جاتی، جہاں صلاحیّتیں عطا ہوتی ہیں وہیں وسائل سے بھی مالامال کردیا جاتا ہے،مہلت ملتی ہے، میدان ہموار کئے جاتے ہیں،مواقع عطا ہوتے ہیں قدم قدم پر راہنمائی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اور تو اور خالق خود اس سب کچھ کا اہتمام فرماتا ہے۔
اسے تنہا نہیں چھوڑا جاتا بلکہ ایک ہمدم ایک راہنما تو ہر دم ساتھ ہوتا ہے جو ہر قدم کو دیکھ رہا ہوتا ہے،
قدم غلط اٹھیں تو نشاندہی کرتا ہے۔۔۔۔۔قدم پکڑلیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔،ٹوکتا ہے۔۔۔۔۔، روکتا ہے۔۔۔۔۔سمجھاتا ہے۔۔۔۔۔ بچاتا ہے۔۔۔۔۔سامنے آجاتا ہے
ناکام ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر بھی مایوس نہیں ہوتا
رد کردیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر بھی ساتھ نہیں چھوڑتا
رفاقت کا حق ادا کردیتا ہے
حسّاس ایسا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے اپنا دل
قریب اس قدر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے اپنی دھڑکن
دنیا کی کوئی زبان اس کے ذکر سے خالی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتابیں اسے ضمیر کہتی ہیں
ذرا سوچئے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان اس کے بغیر کتنے حقیر ہوتے ہیں
ایسے رہبر۔۔۔۔۔ ایسے ہمراز۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔ ایسے رازدار کے ہوتے ہوئے
قدم بھٹک کیوں جاتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
آپ بھی سوچیں ۔۔۔۔۔ یہ آپ کی بات ہے
اور ایسا جب بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ انسان ایک سوال بن کر رہ جاتا ہے
تو سوال آپ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب آپ کی زندگی ہے
کسی دن ذرا رکئے اوردیکھئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ جواب آپ کو اچھا لگ رہا ہے؟؟؟؟ 

................................................................................

................................................................................
.