‏اسلم فہیم کا بلاگ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏اسلم فہیم کا بلاگ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 13 مارچ، 2016

تباہی کا طوفان

5 comments

شیر خان میرا پڑوسی تھا،میں نے ہوش سنبھالا تو اسے اسی مکان میں رہائش پذیر دیکھا اس کی بیوی ماسی نوراں اس کی ماموں زاد بھی تھی، "شیرا" سارے محلے کے بچوں کا "ماما" اور نوراں سب کی "ماسی" ۔ شیر خان پیشے کے لحاظ سے مستری تھا محنت مزدوری کرتا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا،رب نے اسے چار خوبصورت بیٹیوں سے نوازا تھا،بیٹے کی خواہش اسے پاگل بنائے رکھتی، بیٹے کیلئے ایک اور شادی کی خواہش گھر میں جھگڑوں کو جنم دیتی اکثر "برتن ٹکراتے"  اور پھر خاموشی چھا جاتی کچھ دن گزرتے کہ یہ "کھٹ مکھٹ" پھر سے شروع ہو جاتی، روز روز کی "چخ بخ" بڑھتی چلی گئی اوراب اکثر ایسا ہوتا کہ بات "برتنوں کے ٹکرانے" سے "مار کٹائی" کی صورت اختیار کر جاتی، شیر خان غریب تو تھا ہی "مسکین" بھی تھا بیوی کی نسبت کمزور لیکن تھا ایک محبت کرنے والا آدمی، جتنی اسے بیٹے کی چاہ تھی اس سے کہیں بڑھ کے اپنی بیوی اور بیٹیوں سے محبت کرتا اور اسی محبت میں اس نے اپنا مکان بھی بیوی کے نام کر دیا تھا لیکن مقابلے میں یہ ماں بیٹیاں اس کی بیٹے کی خواہش پر اس سے خوب جھگڑا کرتیں اور پھر ایک دن ماں بیٹیوں نے مل کر اس کی پٹائی کر دی،اگر بات پٹائی تک ہی رہتی تو اور بات تھی ماں بیٹیاں تھانے جا پہنچیں اور یوں زندگی میں پہلی بار شیرخان کو رات حوالات میں گزارنا پڑی صبح محلے کے چند بزرگوں کی مدد سے معاملہ رفع دفع ہو گیا، ماسی نوراں بہت خوش خوش ہر کسی کو بتاتی پھِرتی کہ ایک رات تھانے گزار کے آیا ہے ناں تو اب بالکل "سیدھا" ہو گیا ہے ایک ہفتہ بھی گزرنے نہیں پایا تھا کہ معلوم ہوا "ماما شیرا" نے ماسی نوراں کو طلاق دے دی اور نئی شادی کر لی،شیرا بیٹے کا باپ بن پایا یا نہیں یہ تو معلوم نہ ہو پایا لیکن یہ پانچوں ماں بیٹیاں مرد کے سائے سے محروم ہو گئیں اب گھر کا بوجھ بھی  انہیں خود ہی اٹھانا تھا نوراں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی اور اس کی "پھول سی بچیاں" لوگوں کے برتن مانجھتیں، وقت پر لگا کے اڑتا رہا بچیاں اہلِ محلہ کی کوششوں سے پیا دیس سدھار گئیں اور ماسی نوراں منوں مٹی تلے جا سوئی مامے شیرے اور ماسی نوراں کے نام وقت کے گرداب میں کہیں گم ہو گئے لیکن پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے والے حقوق خواتین نامی بل نے مجھے پھر سے "ماسی اور ماما" یاد دلا دئے
خواتین کے حقوق کے نام پر بل منظور کرنے والوں کو شاید معلوم نہیں کہ مرد کو پولیس کے ذریعے گھر سے نکال دیا جائے تو واپسی کے سارے رستے بند ہو جاتے ہیں ، مرد کے پاس وہ تارپیڈو ہے جس سے گھر کی کشتی تباہی سے دوچار کی جاسکتی ہے ،کوئی جج مرد کو طلاق دینے سے نہیں روک سکتا ، عورت تو غصے میں بس روٹھ سکتی ہے روٹھ کر میکے نکل جاتی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتی اور شوہر اس کو منا کر لے آتا ہے ، مگر شوہر یہ ذلت برداشت نہیں کرے گا طلاق دے کر نکلے گا اور کوئی قانون مرد کو طلاق دینے سے نہیں روک سکے گا ،ان قانون سازوں نے عورت سے ہمدردی نہیں کی بلکہ اسے اجاڑنے کی بنیاد رکھ دی ہے، اس قانون سے معاشرے میں طلاق اور گھروں کے اجڑنے کا وہ طوفان اٹھے گا کہ کہیں بھی کسی کو پناہ نہیں ملے گی اور جب طوفان آتے ہیں ناں تو اونچے محلوں میں بسنے والے بھی ان کی دست برد سے محفوظ نہیں رہ پاتے

پیر، 17 اگست، 2015

محبت دلیل کی محتاج نہیں

8 comments
برسوں پہلے جب اس کے والد کی مالی حالت اتنی اچھی نہ تھی کپڑے تو لے دے کے نئے بن ہی جاتے وہ بھی کبھی عید ،بقر عید پر لیکن سویٹر یا جوتے تو اکثر ہی "لندن بازار" سے خریدنے پڑتے،اللہ کے سہارے زندگی کی گاڑی چلی جارہی تھی شکر تھا کہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہ آتی اور گزر بسر اچھے انداز میں ہو ہی جاتی روکھی سوکھی کھانے کو مل جاتی اور یوں سفید پوشی کا بھرم قائم تھا، وقت اپنی رفتار سے چلا جا رہا تھا کہ ایک دن ایک عجیب واقعہ ہوا بازار سے گزرتے ہوئیے اس کے والد نے اسے نئے جوتے خرید دئیے اور "بچہ" نئے جوتے خرید کے پھولے نہ سمایا، نئے جوتوں سے اس کی محبت "دیکھنے والی" تھی، ذرا مٹی لگ جاتی تو فوراً کپڑا لے کے اسے صاف کرتا کپڑا دستیاب نہ ہوتا تو قمیض کے کونے سے ہی اپنی "گرگابی" صاف کر لیتا اس کے دوست جوتوں سے اس کی "محبت" پر اس کا مذاق اڑاتے لیکن وہ دیوانہ اپنے جوتوں کی محبت میں دو سال تک گرفتار رہا تاآنکہ اس کی  "گرگابی" موسموں کے سردوگرم کے ہاتھوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی وہ تو اب بھی اسے اپنے سے جدا نہ کرتا لیکن  ایک دن جب وہ گھر پر موجود نہ تھا اس کی بڑی بہن نے ان ٹوٹے جوتوں کو اٹھا کے گھر کے پچھواڑے کچرے  کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ مہینہ بھر گزرا ہوگا کہ چھت پہ کھیلتے ہوئیے "کپڑے کی بنی گیند" بھی اسی پچھواڑے جا گری. گیند تلاش کرتے کرتے جونہی اس کی نظر اپنے جوتوں پہ پڑی اس نے جھٹ سے آگے بڑھ کے انہیں اٹھا لیا، کن اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھا اور اپنے "ہونٹ" اپنی گمشدہ "گرگابی" پر رکھ دئیے اور اسے "چوم" لیا 
کہ "محبت" تو "محبت" ہوتی ہے ناں جو ٹوٹے پھوٹے، پھٹے پرانے ہونے کی  دلیل کی محتاج نہیں ہوتی

منگل، 21 جولائی، 2015

حصار

14 comments

اسلام آباد کے نواحی علاقے مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں اس گاؤں کا نام مجھے اچھی طرح سے یاد نہیں لیکن وہ منظر میں بھول نہیں پایا،جب گاؤں کی گلیوں میں خوبصورت بچے اور بچیاں ادھر سے ادھر گھومتے پھر رہے تھے اور تو اور ٹافیاں اور بتاشے بیچنے والوں کا کاروبار بھی خوب چمک اٹھا تھا میں حیرت سے ان بچوں کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ایسے مناظر تو شادی بیاہ کی تقریبات کا خاصہ ہوتے ہیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رنگ برنگے کپڑے ٹافیاں بتاشے اور مہکتے پکوانوں کی خوشبو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بہت چھوٹا تھا جب والدہ کاانتقال ہو گیا مجھ سے چھوٹا بھائی لگ بھگ کوئی دو سال کاہی ہو گااور مجھ سے بڑا کوئی دس سال کے لگ بھگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گاؤں میں ہماری کریانے کی ایک چھوٹی سی "ہٹی" ہماری گزر بسر کا ذریعہ تھی لیکن لین دین روپوں پیسوں کی بجائے اجناس کی شکل میں ہوتا تھا کام بہت اچھا تو نہیں تھا لیکن گزر بسر ہو ہی جاتی، والدہ کے انتقال کے ساتھ ہی "خوشحال" رشتہ داروں نے نہ جانے کیوں ہم سے گویا ناطہ توڑ لیا تھا،"گھرداری اور دکانداری"اکٹھے چلانا ،گھر کاکام کاج بھی ہوتا تو کھاناپکانا بھی دکان کھولنا بھی مجبوری ہوتی کہ اس کے بغیر کاروبار حیات چلنا ممکن نہ تھا پھر ایک دن گاؤں میں ایک "مستری" نے آکے اپنی دکان سجائی ، ایسے پرانے "تالوں" میں لوگ اس سے "چابیاں" بنواتے جن کی چابیاں گم ہو چکی تھیں ہر چابی کے عوض وہ "آٹھ آنے" وصول کرتا میں دن بھر اس کے پاس بیٹھا اسے چابیاں بناتے دیکھتا رہا اور شام کو گھر آکے والد صاحب سے کہا کہ آپ تو اپنے گھر کے کسی تالے میں جب "چابی" ٹوٹ جائے تو خود ہی چابی بنا لیتے ہیں اور آج وہ جو تالوں میں چابی ڈالنے والا آیا تھا وہ ایک دن میں اچھے خاصے پیسے کماکے لے گیا تو آپ بھی یہی کام کیوں نہیں شروع کردیتے، والد صاحب کو یہ بات پسند آئی اگلی صبح ہم نے ایک روپے کی کوئی درجن بھرچابیاں خریدیں اور میں اور والد صاحب دونوں بھائیوں کو پڑوسیوں کے سہارے گھر چھوڑ کر قسمت آزمائی کرنے نکل کھڑے ہوئیے بستی بستی قریہ قریہ گھومتے دن میں مزدوری کرتے اور رات کسی مسجد میں ہم دونوں "مسافر" شب بسری کے بعد اگلی صبح پھر سے مزدوری کو نکل کھڑے ہوتے،اللہ نے ہماری محنت میں برکت ڈال دی کام چل پڑا لوگ ہماری آمد کے منتظر رہتے ہم اپنا "آٹا"ساتھ رکھتے کبھی کوئی کام کروانے والا کام کے بدلے میں کھانا کھلا دیتا اور کبھی ہم اپنا آٹا کسی کو دے کے "روٹی" کے ساتھ ایکسچینج کر لیتے۔ دودھ بیچنے کا رواج تو تھا نہیں لوگ دودھ سے دہی،مکھن،لسی اور گھی بناتے اور وہی گھروں میں استعمال ہوتا جن کے گھر میں کوئی گائے بھینس نہ ہوتی وہ"لسی" پڑوسیوں سے مانگ لیتے ہمیں بھی کہیں نہ کہیں سے "لسی" مل جاتی اور یوں لسی کے ساتھ خوب سیر ہو کے کھانا کھاتے صبر شکر کرتے اور رات گاؤں کی مسجد میں بسر کرنے کے بعد اگلی صبح پھر کسی دوسرے گاؤں کا رخ کرتے ، ہفتے عشرے بعد اپنے "گاؤں" کا چکر لگا آتے، وقت پر لگا کے اڑتا رہا اور پھر ہم اسلام آباد کے نواحی گاؤں میں جا نکلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد کے نواحی علاقے مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں اس گاؤں کا نام مجھے اچھی طرح سے یاد نہیں لیکن وہ منظر میں بھول نہیں پایا،جب گاؤں کی گلیوں میں خوبصورت بچے اور بچیاں ادھر سے ادھر گھومتے پھر رہے تھے اور تو اور ٹافیاں اور بتاشے بیچنے والوں کا کاروبار بھی خوب چمک اٹھا تھا میں حیرت سے ان بچوں کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ایسے مناظر تو شادی بیاہ کی تقریبات کا خاصہ ہوتے ہیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رنگ برنگے کپڑے ٹافیاں بتاشے اور مہکتے پکوانوں کی خوشبو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک جاننے والے نے ہمیں اچھا سا کھانا کھلایا میں نے بھی خوب جی بھر کے کھانا کھایا اور پھر جو سوال بہت دیر سے میرے ذہن میں کلبلا رہا تھا "والد صاحب" سے پوچھ ہی لیا، "چاچا جی" یہاں اس گاؤں میں آج کسی کی شادی ہے کیا اور والد صاحب کے جواب کی گونج آج بھی کہیں میرے ذہن کے "نہاں خانوں" میں گونجتی سنائی دیتی ہے 
نہیں پتر آج تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عید کا دن ہے۔
وقت اور حالات نے محنت کی اس کمائی میں برکت عطاکی حالات بدلے گاؤں میں کریانے کی دکان خوب چل نکلی "کم منافع زیادہ سیل" کے فارمولے پہ کام چلتا رہا،گاؤں کے پرائمری سکول کے شفیق استاد "ماسٹر الف دین" صاحب کی کمال محبت سے میں نےمیٹرک تک تعلیم مکمل کر لی، ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر دوست بنے تو اس میدان میں چلا آیا۔
اور پھر اگلی صبح "ابا جی" کہنے لگے آج ایک عجیب سی بات ہوئی کسی نے گویا مجھے سوتے میں زور سے جھنجھوڑا اور کہنےلگا "ماضی کے دریچوں میں مت جھانکئیے"
"ابا جی" کا لہجہ کچھ اس انداز کا تھا کہ میں جب بھی اسے یاد کرتا ہوں میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور اب جب کہ میری انگلیاں کمپیوٹر کے "کی پیڈ" پر"ٹھک ٹھک" لکھنے میں مصروف ہیں میری آنکھوں کے سامنے "بار بار" آنسوؤں کے پردے حائل ہو جاتے ہیں۔
بچپن کی عیدوں کا تذکرہ ہوا، میں اپنی عید کاتذکرہ کیا کروں میں تواپنے "والد صاحب" کے بچپن کے عید کے حصار سے ہی کبھی نکل نہیں پایا، اور ان کے سامنے، ان کے زیرِ سایہ آج بھی ایک "بچہ" ہی ہوں 
بس اس کوہی کافی سمجھئے 
اور آخر میں حسبِ روایت ایسی ہی تحریرکیلئے میں ٹیگ کر رہا ہوں محترم ڈاکٹرجواد احمد خان، ملک غلام مصطفٰی،نورین تبسّم،اسرٰی غوری،ایم بلال ایماورجنابمحمد سلیمکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں ان کی تحریروں کا انتظار رہے گا

ہفتہ، 25 اپریل، 2015

نیکی

3 comments

سوشل میڈیا پراوٹ پٹانگ حرکتیں کرنا بےمقصد شاعری،بے تحاشا گروپس اور پیج جہاں وقت کے ضیاع کاباعث ہیں تو وہیں انسانی "نامہ اعمال" میں کچھ فضولیات کے اندراج کا باعث بھی لیکن اس سب کچھ کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو آج کے اس دور میں بڑھتے ہوئیے اس غیر روایتی میڈیا کو اپنی اور دوسروں کی آخرت سنوارنے کیلئے استعمال کرتے ہیں برادرِ محترم محمد سلیم کا نام اس فہرست میں بہت اوپر لکھا نظر آتا ہے۔ تو بات ہو رہی تھی سوشل میڈیا کی اوٹ پٹانگ حرکتوں کی، لوگوں کی دیکھا دیکھی چند دن پہلے میں نے بھی ایک سٹیٹس ڈال دیا لائکس اور کمنٹس کی لائن لگنا شروع ہوئی ہی تھی کہ ایک دوست کی طرف سے ان باکس پیغام موصول ہوا واہ جی واہ۔ "گناہ" کا ثواب کماکر فیس بک پر اسکے ہزاروں کی تعداد میں گواہ بھی بنالئےاب آپ کے اس "گناہ" والے اسٹیٹس کی وجہ سے جتنے لوگ وہ "گناہ" کریں گے۔۔۔۔ان کے "ثواب" میں سے آپ کا بھی حصہ۔۔۔۔۔۔یعنی "صدقہ جاریہ" ہو گا۔نہ کریں یار۔ کرنا ہی ہے تو چھپ چھپاکر کرلیں
میں نے ان کا پیغام پڑھا اوراپنا سٹیٹس ڈیلیٹ کر ڈالا لیکن جو پڑھ چکے سو پڑھ چکے گناہ کا گواہ جتنوں نے بننا تھا وہ تو بن چکے لیکن اس شخص کیلئے دل سے ڈھیروں دعائیں نکلتی ہیں جس نے میری غلطی کی نشاندہی کی
اس موقع پر نبی اکرم ﷺ کی ایک حدیث مبارک یاد آرہی ہے کہ مومن، مومن کا آئینہ ہے اسے اس میں عیب نظرآئے تو اصلاح کرے، میرے اس بھائی نے میری اصلاح کرکے اپنے مومن ہونے کا حق ادا کیا اس کی نیکی قیامت کے روز یقیناً اس کیلئے باعثِ اجر وثواب ہوگی لیکن میں بھی اس کی نیکی کو ہمیشہ یاد رکھوں گا کہ اس کی یہ نیکی میرے نزدیک بہت بڑی ہے کیوں کہ نبی مہربان ﷺ نے یہاں تک ارشاد فرمایاکہ
 لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقٰی أَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ‘‘ وَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم تَبَسُّمُکَ فِیْ وَجْہِ أَخِیْکَ لَکَ صَدَقَۃٌ۔‘‘ وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ’’ کُلُّ مَعْرُوْفٍ صَدَقَۃٌ ، وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ أَنْ تَلْقٰی أَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِکَ فِیْ إِنبَائِ أَخِیْکَ۔)) 
’’نیکی میں سے کسی چیز کو بھی حقیر نہ جانو۔ چاہے تم اپنے (مسلمان) بھائی کو ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ ہی ملو۔‘‘ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے: ’’تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرا دینا بھی تمہارے لیے نیکی ہے۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے: ’’ہر بھلائی ، خیر کا کام نیکی ہے اور خیر کے کام میں سے یہ بھی ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کو ہشاش بشاش چہرے سے ملو۔ اور یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے ( کنویں والے)ڈول میں سے اپنے بھائی کے برتن میں بھی کچھ ڈال دو۔‘‘ (یوں تمہارے مسلمان بھائی کے دل میں بھی خوشی پیدا ہو گی۔)

جمعرات، 19 فروری، 2015

سوشل میڈیا اور بندر کا استرا

2 comments
لوگوں کے"رنگ برنگے"لشکارے مارتے "ٹچ سکرین موبائل "دیکھ دیکھ کے اپنا بھی جی للچاتا کہ ہم بھی ایسا ہی ایک موبائل خرید لیں لیکن مہنگائی کےمنہ زور گھوڑے کے سامنے ایک نہ چلتی اور نتیجتاً اپنے 3310 کے ساتھ یاری نبھانی پڑتی
لیکن جب میرے پرانے نوکیا3310 نے انڈرائیڈ ایپلی کیشن کو قبول کیا تو لوگوں کی دیکھا دیکھی ہم نے بھی اس پر "بی مانو" کے ساتھ ساتھ فیس بک، سکائپ،ٹویٹر اور وائبر سمیت بہت کچھ "الم غلم" انسٹال کر لیا حالانکہ نہ تو ہم نے "وائبر" پہ آکے "وائبریشن" لگوانی تھی نہ ہی"بی مانو" کے ساتھ "آنکھ مٹکا" کرنے کا وقت،ہاں البتہ فیس بک پہ آنا اور "ٹویٹر" پہ "ٹویٹ ٹویٹ" کھیلنے کے "چسکے" سے جان چھڑانا ممکن نہ تھا،
اینڈرائیڈ کی رنگ ونور میں چمکتی لش پش کرتی ایپس نے بالآخر پنگا لینے پر مجبور کر ہی دیا اور قرعہ فال Viber کے نام نکلا، ہم نے جھٹ سے اکاؤنٹ بنایا اور دوستوں کو بتانے کیلئے کہ ہم بھی Android موبائل رکھتے ہیں جھٹ سے السلام علیکم لکھا اور سب کو Send کر دیا اس خیال سے کہ سب لوگوں تک میراسلام پہنچے گا اور ہر کوئی یہ جان لے گا کہ ہم بھی Viber پہ آگئے ہیں لیکن "وائبر جی" نے ہمارے سلام کو گروپ کی شکل دے ڈالی اور جواب میں دوستوں کے وعلیکم السلام کے بعد کچھ "رنگین مزاج" دوستوں کے گرافکس اور پیغامات کے ایک نہ تھمنے والے سلسلے نے ہمیں حقیقت میں "وائبریشن" پہ لگا دیا صبح سویرے بیدار ہوتے ہی میرے آفیشل نمبر پہ ایک محترم ہستی کا پیغام میرا منتظر تھا براہِ کرم مجھے اس گروپ سے نکال باہر کرنے کی کوئی سبیل کیجئے ورنہ یہاں تومیسجز کا ایک طوفانِ بدتمیزی آیا ہوا ہے اور مجھے مجبوراً اس محترم ہستی کو گروپ سے نکالنے کی بجائے اس گروپ کو ہی ڈیلیٹ کرنے کیلئے "انکل گوگل" سے راہنمائی لینی پڑی،گروپ تو ڈیلیٹ ہو گیا لیکن ایک سبق مل گیا کہ بغیر سوچے سمجھے "بندروں" کے ہاتھ میں "استرا"تھما دینے سے سب کی ٹنڈ تو بنتی ہی ہے لیکن ساتھ میں اپنی درگت بھی بنتے دیر نہیں لگتی

بدھ، 21 جنوری، 2015

ضابطہ

1 comments

بچپن میں چینی کیلئے لمبی لائن میں کھڑے رہنے کا تجربہ ہوا تو لڑکپن سے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی سردیوں میں ایل پی جی سلنڈر کی دستیابی نایاب ہوگئی سلنڈر کا حصول جان جوکھوں کا کام تھااکثر لوگ رات کے وقت ہی ایجنسی کے سامنے سلنڈروں کو زنجیروں کے ساتھ باندھ کے لائن بنا جاتے ،کبھی لوگوں کو آٹے کیلئے لمبی لائن بنائے کھڑے دیکھا تو کبھی بجلی اور سوئی گیس کے بل جمع کروانے کیلئے لائن میں لگے سارا دن گزر جاتا، وقت گزرتا گیا اور پھر سی این جی کی لمبی لائن کا آغاز ہو ا تو یہاں بھی ڈرائیور رات کو ہی گاڑیاں لائن میں کھڑی کر جاتے ، لیکن جب سی این جی تین ماہ کیلئے لوڈشیڈنگ کے نرغے میں آئی تو خیال تھا کہ اب لائنوں سے اس قوم کی جان چھوٹ جائے گی لیکن گزشتہ چند روز سے لوگوں کو پٹرول کیلئے لائن میں لگے دیکھ بلکہ خود اس تجربے سے گزرتے ہوئے ماضی کی یادیں ایک بار پھر سے تازہ ہو گئیں کہ جب صبح سویرے نماز کے وقت ہم بھی ایل پی جی سلنڈر لئے لائن میں لگ جاتے تھے۔اس وقت ذہن میں ایک خیال آتا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ کوئی شخص ہماری باری رکھے رکھے اور جب ہمارا نمبرآئے تو ہم جھٹ سے آکے  اپنے حصّے کی چینی یا سلنڈر حاصل کر لیں ۔اس خواب کی تعبیر آج کے اخبار میں ایک خبر نظر سے گزرنے کے بعد حقیقت کا روپ دھارتی نظر آرہی ہے کہ جنوبی امریکہ کا ایک ملک وینزویلا ان دنوں شدید معاشی بحران کا شکار ہے جہاں چینی،چاول،اور دیگر اشیاءِ خوردونوش کے حصول کیلئے صبح سویرے سے ہی لوگ قطار بنا کر کھڑے ہوجاتے ہیں ، اس اثناء میں کچھ پیشہ ور لوگوں نے لائنوں  میں کھڑا ہونے کو اپنی آمدن کا ذریعہ بنا لیا ہے وہ صبح سویرے لائن میں لگ جاتے ہیں اور امیر لوگوں کیلئے سامان کی خریداری کرکے اپنی دیہاڑی کھری کرلیتے ہیں، اشیاءِ ضروریہ کی قلّت نے جہاں لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے وہیں یہ بحران کئی ایک گھرانوں کے پیٹ کا ایندھن فراہم کرنے کا سامان بھی کئے ہوئے ہے۔
ہزاروں میل کی مسافت پر بسنے والے جنوبی امریکہ کی اس ریاست کے باشندے ہوں یا اسلام کی بنیاد پر بننے والی مملکتِ خدادا پاکستان کے باسی ربِّ ذوالجلال نے اس دھرتی کے سینے پر بسنے والے ہر فرد کیلئے ایک ضابطہ طے کر دیا
 وَ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِکۡرِیۡ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا وَّ نَحۡشُرُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اَعۡمٰی ﴿۱۲۴﴾ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِیۡۤ اَعۡمٰی وَ قَدۡ کُنۡتُ بَصِیۡرًا ﴿۱۲۵﴾ قَالَ کَذٰلِکَ اَتَتۡکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیۡتَہَا ۚ وَکَذٰلِکَ الۡیَوۡمَ تُنۡسٰی ﴿۱۲۶﴾ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِیۡ مَنۡ اَسۡرَفَ وَ لَمۡ یُؤۡمِنۡۢ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ؕ وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَشَدُّ وَ اَبۡقٰی ﴿۱۲۷﴾

اور جو میرے ذکر(درسِ نصیحت) سے منہ موڑے گا اس کیلئے ہم دنیا کی زندگی کو تنگ کر دیں گے،اور قیامت کے روز اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے،وہ کہے گا” پروردگار، دُنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اُٹھایا؟“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا”ہاں، اِسی طرح تو ہماری آیات کو ، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں ، تُو نے بُھلا دیا تھا۔ اُسی طرح آج تُو بھلایا جا رہا ہے۔اس طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے ربّ کی آیات نہ ماننے والے کو (دُنیا میں )بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیر پا ہے۔
دنیا کی زندگی تنگ ہونے کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں کہ ان کو مالی مشکلات ہوں بلکہ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ پیسے جیب میں ہوں اور اشیاءِ ضروریہ کیلئے مارے مارے پھرتے ہوں۔ پیسے ہاتھوں میں اٹھائے پٹرول ،گیس، بجلی، آٹے اور چینی کیلئے ترستے لوگوں کیلئے دنیا کی یہی زندگی قرآن کی زبان میں "مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا" ہے۔

بدھ، 17 دسمبر، 2014

میرا قلم لہو لہو میری زباں لہو لہو

4 comments

43 برس بعد 16دسمبر نے ایک بار پھر سے لہو لہودسمبر کی یاد تازہ کر دی،پشاورمیں آرمی پبلک سکول میں132بچوں سمیت 142 افراد کی شہادت سےدل ودماغ قابو میں نہیں ملک کے طول وعرض میں صفِ ماتم بچھی ہےہر فرد رنجیدہ ہے، اور تو اور ایسے حادثات میں زخمیوں اور شہیدوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دینے والے رضاکار بھی دھاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں، آج صبح بچوں کو سکول چھوڑنے جاتے ہوئے میں نے معصوم بچوں کے چہروں  کو دیکھا جو آج خلافِ معمول سر جھکائے شرارتوں کی بجائے سنجیدہ سنجیدہ اپنے مادرِ علمی کی جانب رواں دواں تھے،کل صبح آرمی سکول پشاور کے وہ طلبہ بھی ایسے ہی یونیفارم پہنے اپنے اپنے سکولوں کی طرف رواں دواں ہوں گے، لیکن گھروں سے سکول روانہ کرتے ہوئے والدین کو معلوم نہ تھا کہ وہ انہیں آخری بار پیار کر رہے ہیں۔ دہشت گردی نے میرے ملک کو لہو لہان کر دیا ہے مرنے والے معصوم اپنے پیاروں کو غم واندوہ میں ڈوبا چھوڑ کے منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں تو کتنے ہی زخموں سے چور،حکومت کی طرف سے زخمیوں اور شہداء کیلئے معاوضوں کا اعلان کیا جاچکا لیکن دلوں کے زخموں پہ مرحم کون رکھے گا، ہر سال سقوطِ ڈھاکہ کے زخم کے ساتھ ایک اورزخم کا اضافہ ہوگیا،ہر طرف سے آوازیں اٹھ رہی ہیںبأَيِّ ذَنبٍ قتِلَت (تمہیں کس جرم میں قتل کیا گیا)۔ ان معصوموں کی کہانیوں سے اخبارات بھرے پڑے ہیں کوئی ڈاکٹر بننا چاہتا تھا تو کوئی انجینئر، کوئی وکیل تو کوئی تاجر۔بہت سے ایسے تھےجو بہنوں کے اکلوتے بھائی۔ اور کئی ایک تو والدین کی واحد اولاد،ان والدین پر ٹوٹی قیامت کی ترجمانی کسی صورت ممکن نہیں۔ سبزکوٹ اور سویٹر پہنے کشاں کشاں سکول جانے والے ننھے منے فرشتہ سیرت یہ بچے سفید کفن اوڑھے لہو سے غسل کرکے اپنے ابدی سفر کو روانہ ہو گئے کئی ایک کے جنازے پڑھے جاچکے تو کئی ایک کیلئے تیاری آخری مراحل میں ہےقبروں پر پھول چڑھا کر فاتحہ پڑھ کرسبھی اپنے اپنے گھروں کو لوٹ آئیں گے،دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنےکےعزم کا اعادہ کیا جائے گا،شہداء کیلئے دعائے مغفرت کی جائے گی اور "آمدن، نشستنِ ،خوردن، برخواستن" کے مصداق اجلاس ختم ہو جائیں گے۔ اور پھر زیادہ دن نہیں گزریں گے کہ یہ حادثہ دیگر حادثوں کی طرح وقت کی گرد میں کہیں گم ہو جائے گا،ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان ہوا ہے،لیکن کیا ایسے واقعات پر صرف سوگ منا لینا کافی ہے؟؟؟؟ کیا ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا ؟؟؟؟؟ اگر حملہ آوروں کا پتہ چلا لیا گیا وہ کون تھے کہاں سے آئے تھے، تو کیا ان تک پہنچنے اور بے نقاب کرنے کی کوئی سعی بار آور ہوگی ؟؟؟؟ یا پھر یوں ہی میری ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی
اجاڑ رستے،عجیب منظر،
ویران گلیاں ، یہ بند بازار
کہاں کی خوشیاں کہاں کی محفل،
شہر تو میرا لہو لہو ہے۔
وہ روتی مائیں،
بےہوش بہنیں لپٹ کے لاشوں سے کہہ رہی ہیں۔
اے پیارے بھیا ،
سفید کُرتا تھا سرخ کیوں ہے ؟؟؟

جمعرات، 11 دسمبر، 2014

محبّت جیت جاتی ہے

10 comments

پرائمری سکول میں ٹاٹ پربیٹھےتختی لکھنے کے دوران میں دوسروں کی دوات سےقلم کا"ڈوبہ" لگانا سب سے بڑی شرارت تصورکی جاتی تووہیں خوبصورت تختی لکھنا ایک اعزاز گردانا جاتا،جب اساتذہ تعلیم کو پروفیشن نہیں فرض سمجھتے تھے اور "مار نہیں پیار" کا فلسفہ تو ابھی دور کہیں بہت بلکہ دور تھا لیکن "پولیس اور تھانہ" اس وقت بھی خوف کی علامت اور صرف خون ہی نہیں بلکہ "طالب علموں کی تختیاں" خشک کرنے کی علامت بھی تھا :) ۔انہی دنوں کی بات ہے "تختی تختی دو دانے نہیں سکنا تے چل تھانے" کی گردان کرتا میں گیلی تختی کو خشک کرنے کی ناکام سعی میں مصروف تھا لیکن تختی تھی کہ تھانے کا نام سن کر بھی سوکھنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ سردیوں کی اس دوپہر میں جب سکول کی بریک ٹائم ختم ہونے میں ابھی چند منٹ ہی باقی تھے کہ مجھے یاد آیاکہ "پکڑن پکڑائی" کھیلنے کی دھن میں کل کی لکھی تختی تو میں نے دھوئی ہی نہیں اورپھر میں بھاگم بھاگ تختی دھو لایا، تختی دھو تو لایا لیکن آج سورج انکل بھی کہیں دور جا چھپے تھے اورمیں ماسٹرجی کے خوف سے گول گول گھومتا سکول کے گراؤنڈ میں تختی کو سکھانے کیلئے چکر لگاتا اسے سنائے جا رہا تھا "تختی تختی دو دانے نہیں سکنا تے چل تھانے" کہ شاید تھانے کا خوف اسے خشک ہونے پر مجبور کردے کہ دفعتاً رمضان میاں نہ جانے کہاں سے آٹپکے اورتختی سوکھنے کی بجائےرمضان میاں کے ماتھے پر ایک بڑا سا زخم چھوڑ گئی،خون تھا کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھااور ادھر میرا خوف کے مارے خون خشک ہوچلا تھا،بات ہیڈماسٹرصاحب تک پہنچی اورانہوں نے "کمال محبّت" سے میری "چھترول" کرکے مجھے کل اپنا والد صاحب کو ساتھ لانے کا کہ کرسکول سے نکال دیااور یوں میری "اَن سوکھی" تختی سکول میں رہ گئی اور میں گھر آگیا شام میں ابا حضور کے سامنے بات رکھی گئی اور دوسرے دن ابا جان میرے ساتھ سکول آئے ، مجھے معافی مل گئی اور میں ہنسی خوشی اپنی کلاس میں پہنچ گیا۔لیکن یہ خوشی اس وقت عارضی ثابت ہوئی جب آخری پیریڈ میں ماسٹر صاحب نے تمام طلبہ کو اپنی اپنی تختیاں نکالنے کو کہا، اور جنہوں نے تختیاں نہیں لکھی تھیں ان کی شامت آگئی میری سوکھی تختی میرا منہ چڑا رہی تھی گویا مجھے کہ رہی ہو کل تو مجھے نہ سوکھنے پر تھانے لے جانے کی دھمکی دے رہا تھالیکن آج خود خوب پھنسا ہے ناں۔ ماسٹر صاحب نے ان تمام چھ طلبہ کو مرغا بن جانے کا آرڈردیاجوتختی نہیں لکھ کےلائے تھے،جھجھکتے جھجھکتے سب مرغا بن گئے اور اس سے پہلے کہ پٹائی شروع ہوتی ایک طالب علم نے دوڑ لگا دی اور کلاس سے فرار ہو گیا ماسٹر صاحب نے سب کو کھڑا کیا اور ایک سرے سے مارنا شروع کیا پہلی باری میری ہی تھی میرے ہاتھوں پہ دس ڈنڈے برس چکے تھے کہ دفعتاً چھٹی کی گھنٹی بج گئی، ماسٹر صاحب نے باقی لڑکوں کو چھوڑتے ہوئے کہا کہ جاؤ نامخولو( غیر معقول آدمی) کل تختیاں لکھ کے لانا۔ میں جو دس ڈنڈے کھا کر بھی بے شرموں کی طرح کھڑا تھا اس ناانصافی پر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ دن گزرتے گئے پرائمری سے ہائی سکول اور پھر کالج سے ہوتے ہوئے عملی زندگی میں قدم رکھا لیکن وہ واقعہ کہیں نہ کہیں کبھی نہ کبھی تازہ ہو جاتا ، ماسٹر صاحب کی نا انصافی کے خلاف ایک گانٹھ میرے دل میں موجود تھی، عملی زندگی میں قدم رکھے برس گزر گئے بچپن کے دوست معلوم نہیں کہاں تھے کہ ایک دن میرے کچھ مہمان آئے بیٹھے تھے،اور میں کلینک میں مریضوں کے بنچوں پر بیٹھا تھا والد صاحب مریضوں کا چیک اپ کر رہے تھے کہ ایک لمبے قد کے بزرگ کلینک میں داخل ہوئے کچھ دیر میری طرف غور سے دیکھنے کے بعد ابا جان کی طرف بڑھ گئے ان کی آواز مجھ تک پہنچ رہی تھی،آپ کا ایک بیٹا میرے پاس پڑھا کرتا تھا اور آپ اکثر اس کی خبر گیری کیلئے سکول آتے تھے آج میرا دل چاہا کہ اس سے ملوں، ان کی آواز سن کے میں بے اختیار اندر کی جانب لپکاسفید داڑھی اور خوبصورت چہرے والے ماسٹر اقبال صاحب آج 26سالوں بعد میرے سامنے تھے جو محبّت سے مجھے ملنے آئے تھے،ان کی محبتوں کے سامنے ان کے خلاف دل میں بن جانے والی گانٹھ، ان کے خلاف سارے گلے شکوے کہیں دور گم ہو گئے تھے۔ میں ہار گیا ان کی محبت جیت گئی اس لئے کہ نفرتوں کے مقابلے میں "محبّت جیت جاتی ہے"

منگل، 25 نومبر، 2014

ایک خوبصورت دن

10 comments
جماعت اسلامی پاکستان کے اجتماعِ عام میں شرکت کا پروگرام بنا تو بہت سے دوستوں کے ساتھ ملاقات کا پروگرام بھی ساتھ میں ہی ترتیب پا گیا،لاہور پہنچتے ساتھ ہی جو لاگ ان ہوا تو پہلا پیغام محترم بھائی مصطفٰی ملک کا موصول ہوا مجھے کال کیجئے آپ کا نمبر نہیں مل رہا اور پھر جونہی میں نہ کال ملائی اور یوں تھوڑی دیر بعد ہی ملک صاحب سے سوشل میڈیا کیمپ میں ملاقات ہو گئی۔
 
ملک صاحب بار بار بتا رہے تھے"یار او بلال آریا وا" اور میں سمجھ  نہیں پا رہا تھاکہ ملک صاحب کس "بلال" کا ذکر کررہے ہیں۔لیکن مغرب کے بعد جب سفید رنگ کی "نگوں والے بٹن" لگی قمیض شلوار میں ملبوس نوجوان کی قیادت میں اردو بلاگرز کا ایک گروپ سوشل میڈیا کیمپ میں داخل ہوا اورجومیں آگے بڑھ کر ملا تو ملک صاحب نے تعارف کا فریضہ سرانجام دیا
یہایم بلال ہیں اور پھر میں تو گویا خوشی کے مارے اچھل ہی پڑا پاک اردوانسٹالر کے موجد ایم بلال ایم میرے سامنے تھے ان کا شکریہ ادا کرنے کیلئے الفاظ نہیں تھے میرے پاس کہ ان کی بدولت ہمیں کمپیوٹر پر ہر جگہ اردو لکھنے کی سہولت میسر آئی،ان کے ساتھ ملنسار اورہنس مکھ سے کاشف نصیرہیں۔ اور ارے میں نے تو انہیں پہچانا ہی نہیں مجھے ملتے ہی آنکھوں میں شرارت سجائےکہنے لگے دیکھنا باوا بھی یہیں لاہور میں ہوتا ہے جی ہاں تو یہ ہیں کراچی سے تشریف لائے وقار اعظم ۔اور یہ "ننھا منّا" سا لڑکا جوکبھی "غیث المعرفہ" ہوتا ہے تو کبھی غلام اصغر ساجد بلاشبہ قابلِ قدر بھی ہے توایک اچھا لکھاری بھی، اور یہ بانکا سجیلا جوان مفکروں کی طرح ناک پہ چشمہ ٹکائے کون ہے بھلا معلوم نہیں اب نظر کی کمزوری ہے یا مفکر نظر آنے کا شوق لیکن چشمہ تو بہر حال خوب سجا  :)  محمد عبداللہ ہیں یہ .تصویر بنواتے وقت جھٹ سے کرسی پہ "دولہا میاں" بنے بیٹھے یہ ہیں عاطف بٹ۔ اوریہ نٹ کھٹ سا نوجوان اپنے آپ کو رضی اللہ خان بتاتا ہے، اور یہ ہیں محمداسد اسلم جنہوں نے یہ فوٹو پوسٹ کرنے کے بعد مجھے فرینڈ ریکوسٹ بھیجی جو ابھی ابھی میں نے قبول بھی کرلی ۔غرض یہ ایک شاندار دن تھا جب بہت سے بلاگر مل بیٹھے۔ ملک صاحب نے تو خدمت سے معذرت کر لی کہ اب یہاں کہاں سے چائے پانی آئے لیکن جماعت اسلامی کے مرکزی ناظم آئی ٹی شمس الدین امجد اور ناظم آئی ٹی پنجاب میاں محمد زمان نے کمال محبت سے تمام بلاگرز کیلئے ریفریشمٹ کا اہتمام کیا اور جو میں وہاں سے اٹھ کے محترم بھائی فیض اللہ خان کے پاس آیا تو کسی نے میرے حصّے کی ریفریشمنٹ بھی ہضم کرلی ظالموجس نے بھی وہ کھایاہے ناں مجھے معلوم ہے وہ اگر نام بتا دیا ناں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 25 اکتوبر، 2014

نمازِجنازہ

2 comments

بلدیاتی الیکشن کی گہما گہمی تھی کاغذات نامزدگی جمع کروائے جاچکے تھے ،امیدوار اپنی اپنی مہم چلا رہے تھے شادی بیاہ کی تقریبات میں حاضری ،جنازوں میں شریک ہونا لازم ہو گیا تھا،کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کا دن تھاسبھی امیدوار ریٹرننگ آفیسر کے آفس پہنچ چکے تھے لیکن ایک امیدوار ابھی تک غیر حاضر تھا کاغذات کی پڑتال کا عمل شروع ہو گیا،امیدواروں سے مختلف سوالات ہو رہے تھے کسی سے سورہ اخلاص تو کسی سے دعائے قنوت سنی جارہی تھی آدھ گھنٹہ گزرا تو وہ امیدوار بھی آموجود ہوا، ریٹرننگ  آفیسر نے استفسار کیا آپ دیر سے کیوں آئے۔جواب ملاایک جنازہ پڑھنے کیلئےچلا گیا تھا اس لئے دیر ہوگئی،ریٹرننگ آفیسر نے ان سے جو نمازِجنازہ سنانے کیلئے کہا تو انہیں چپ لگ گئی آفیسر کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی اور کہنے لگا یہ لوگ آپ کی نمازِجنازہ پڑھیں گے،کمرہ عدالت زعفرانِ زاربن گیا۔کاغذاتِ نامزدگی کی پڑتال ہو گئی،الیکشن بھی ہوگیا جیتنے والے جیت گئے اور ہارنے والے اگلے الیکشن سےامیدیں لگائے سرگرم ہیں۔
کہیں ایسا نہ ہو ہم میں سے کسی کو ایسی ہی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑ جائے
آئیے دیکھتے ہیں نمازِجنازہ کیسے ادا ہوتی ہے اور اس میں کیا پڑھتے ہیں
جنازہ کی نماز میں دو فرض ہیں۔ (۱) تکبیراتِ اربعہ۔ (۲) قیام
اس کیلئے وہی شرائط ہیں جو فرض نماز کیلئے ہیں،نمازِجنازہ میں نہ قراءتِ قرآن ہے اور نہ رکوع و سجود و تشہد ہے،نیّت کرنے کے بعد امام بلند آواز سے اللہ اکبر کہتا ہے اور مقتدی بھی پہلی تکبیر کے بعد اللہ اکبر کہتے ہوئے کانوں تک ہاتھ اٹھاتےہیں اورنماز کی طرح سینے پر ہاتھ باندھ لیتےہیں اس کے بعد ثناء پڑھتےہیں
سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَجَلَّ ثَنَاءُ کَ وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ
اس کےبعدامام ہاتھوں کوکانوں تک اٹھائے بغیردوسری تکبیر کہتاہےدوسری تکبیر کے بعد درود شریف پڑھاجاتا ہے 
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّيْتَ وَسَلَّمْتَ وَبَارَکْتَ وَرَحِمْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ.
اگر یہ والا درود شریف نہ آتا ہو تو نماز والا درودِابراہیمی بھی پڑھا جا سکتا ہے
درود شریف کے بعد تیسری تکبیراوراس کےبعد تمام مومن مردوخواتین کیلئے دعائےمغفرت کی جاتی ہے،
اَللّٰھُمَّ اغفِرلِحَیِّنَاوَمَیِّتِنَاوَشَاھِدِنَاوَغَائِبِنَاوَصَغِیرِنَاوَکَبِیرِنَاوَذَکَرِنَاوَاُنثَانَااللّٰھُمَّ مَن اَحیَیطَہُ مِنَّافَاحیِہِ عَلَی الاِسلَامِ وَمَن تَوَفَّیتَہُ مِنَا فَتَوفَّہُ عَلَی الاِیمَانِ"
اگریہ دعا یادنہ ہوتو جودعایادہووہی پڑھی جا سکتی ہے لیکن وہ دعاجوآخرت سے متعلق ہو اگر کوئی یاد نہ ہو تو یہ پڑھ لینا کافی ہے
"اللّٰھُمَّ الغفِر لِلمُومِنِینَ وَالمُومِنَاتِ"
اگر میّتنابالغ لڑکےکی ہوتومذکورہ بالا دعا کے بجائے یہ دعا پڑھی جاتی ہے
" اللّٰھُمَّ اجعَلہُ لَنَا فَرَطًا وَّ اجعَلہُ لَنَا اَجراً وَّذُخراًوَّاجعَلہُ لَنَا شَافِعا وَّ مُشَفَّعاً "
اوراگر میّت نابالغ لڑکی کی ہو تو اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا لَنَا فَرَطاً وَّاجْعَلْهَا لَنَا اَجْرًا وَّ ذُخْرًا وَّاجْعَلْهَا لَنَا شَافِعَةً وَّ مُشَفَّعَةً پڑھی جائے گی اس کے بعد امام صاحب چوتھی تکبیر کہتےہیں اوراس کےبعد دونوں طرفاَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَةُﷲِ کہتے ہوئے سلام پھیراجاتا ہے بالکل جیسے نمازمیں سلام پھیرتے ہیں

ہفتہ، 30 اگست، 2014

حکمتِ ربانی

3 comments

ٹھنڈی آہیں بھرتی ، ہائی بلڈ پریشر اور بے خوابی کا شکار یہ مریضہ آج جب دوسری بار میرے کلینک میں آئی تو پہلی بار کی نسبت قدرے بہتر تھی،اور آج اتفاق سے جس وقت وہ آئی میرے کلینک میں اس وقت کوئی مریض بھی نہ تھا،اس کا بلڈ پریشر بھی پہلے سے کم تھا او رکچھ وقت کیلئے اب نیند بھی آجاتی تھی اس کے ساتھ آنے والی اس کی بیٹی علاج سے مطمئن تھی۔آج میں نے اس کے مرض کی تہ تک پہنچنے کی ٹھان لی ،میرے اس سوال پر کہ باجی یہ تکلیف شروع کیسے ہوئی وہ خاتون پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور ایک عجیب بات کہی کہ میں نے خدا سے مقابلہ کیا ناں ،سو مجھے اس کی سزا مل رہی ہے،ڈاکٹر صاحب دعا اکیجئے میرا مولا مجھے معاف کر دے میں نے اس کو کھل کر رونے دیااور اس کیلئے ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس منگوایا،پانی پی چکنے کے بعد کچھ پرسکون ہوئی تو میں نے اس سے سوال کیاکہ آخر آپ نے ایسا کیا کر دیا کہ آپ اپنے آپ کو اللہ تعالٰی کے مدمقابل پاتی ہیں ۔اس نے ایک گہرا سانس لیا کچھ دیر تک سوچتی رہی اور پھر سر اٹھا کر یوں مخاطب ہوئی




ڈاکٹر صاحب میری شادی کو 10برس بیت چکے تھے اللہ نے ہر نعمت سے نوازا تھا گھر میں ہر طرح کی آسائشیں موجود تھیں تین بیٹیاں پیدا ہوئیں جن کی وجہ سے ہر وقت گھر میں رونق رہتی، لیکن میں تھی کے بیٹے کی خواہش میں پاگل ہوئی جاتی تھی لیکن جب ہر بار بیٹی ہی پیدا ہوتی توبیٹے کی خواہش مزید بڑھ جاتی، میرا خاوند اس حال میں بھی خوش تھا لیکن میں نے اپنا بیٹا نہ ہونے کی صورت میں کسی اور کا بیٹا گود لینے کا فیصلہ کر لیا۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک طلاق یافتہ خاتون شادی ہو کر ہمارے محلّے میں آگئی جس کا پہلی شادی سے ایک نومولود بچہ تھاجسے دوسرے خاوند نے پرورش کرنے سے انکار کر دیا جب میں نے یہ سنا تو اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے اس کے ہاں جا پہنچی اس خاتون کی منّت سماجت کی کہ وہ بچہ مجھے دے دو میں اسے اپنا بیٹا سمجھ کے پالوں گی،میری باتیں سن کر تو گویا اس خاتون کیلئے بلّی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کے مصداقخوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہااور اپنا بچہ میرے حوالے کرنے پر تیّار ہوگئی۔ میں نے اس سے بچہ لیا اور خوش خوش اپنے گھر کو لوٹ آئی،اب وہ بچہ میری آنکھوں کا تارا تھا میں اس کے لاڈ اٹھاتے نہ تھکتی،بیٹیوں کو بھی گلہ رہنے لگا کہ آپ اب ہمیں کم پیار کرتی ہیں لیکن میں جو بچہ مل جانے پرخوشی سے اتراتی پھرتی تھی مجھے کس کی پرواہ تھی ۔وہ بڑا ہوا تو اسے اچھے سکول میں داخل کروایا اس کی ہر خواہش پوری کی وقت تیزی سے گزرتا رہاتاآنکہ اس نے میٹرک کر لیامیں نے بہت کوشش کی کہ وہ مزید تعلیم حاصل کرے لیکن اس نے کہا کہ وہ اپنے باپ کے کاروبار میں اس کا ہاتھ بٹائے گا میں خوش تھی کہ بڑھاپے میں میرے خاوند کو سہارا مل گیا۔لیکن ابھی میری اصل آزمائش باقی تھی میرے خاوند نے اس کی دلچسپی دیکھتے ہوئیکاروبار اس کے نام کردیا اور اسے ایک گاڑی بھی خرید دے تاکہ کاروباری سلسلے میں دوسرے شہر جانے میں اسے مشکل نہ پیش آئے۔ کچھ ہی عرصے بعد ہمارے اس بیٹے کا اٹھنا بیٹھنا غلط سوسائٹی میں ہو گیا ہمیں معلوم ہوا تو سمجھانے کی کوشش پر گلے پڑنے کو آگیا،کچھ ہی عرصہ بعد اپنے محلّے ہی کے ایک دوست کو معمولی تلخ کلامی پر قتل کر ڈالا اور ہماری نیک نامی پر ایک اور دھبہ لگا کر آج کل جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہے،ڈاکٹر صاحب میں نے خدا کا مقابلہ کیا اس نے مجھے بیٹا نہیں دیا ناں تو میں نے کسی اور کے بچے کو اپنا بیٹا بنا کر اس کی ولدیت کے خانے میں اپنے خاوند اور خود کو اس کی ماں کہلوا کر فخر کا اظہار کیا تو خدا نے مجھے دنیا میں ایسی سزا دے دی کہ اب بیٹا کال کوٹھڑی میں سزا کا منتظر ہے محلّے میں سر اٹھا کے جینے کے قابل نہیں رہے اور بیٹے کی محبّت دل ہلائے دیتی ہے معلوم نہیں اس کا کیا بنے گااورانہیں سوچوں میں راتوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں
وہ خاتون دوا لینے کے بعد اپنے گھر لوٹ گئی لیکن مجھےقرآن مجید کی سورہ شورٰی کی ان  آیات  کی تفسیر سمجھا گئی گئی  جن میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا
 لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَأَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا(سورۃ الشوریٰ آیت نمبر 49 ،50)
اللہ فرماتے ہیں کہ میں زمینوں اور آسمانوں کا مالک ہوں پیدا کرتا ہوں جو چیز چاہتا ہوں جس کو چاہتاہوں بیٹیاں عطا کرتا ہوں اور جس کو چاہتا ہوں بیٹے ۔ چاہوں تو جڑواں جڑواں بیٹے اور بیٹیاں دے دوں اور میں مالک ہوں چاہوں تو کچھ بھی نہ دوں ۔

منگل، 19 اگست، 2014

بچپن کی یادیں،سائیکل والا رنگیلااور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

3 comments

یہ90 کی دہائی کا تذکرہ ہے جب میں نے گورنمنٹ ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا،اس دور میں گلی کے کسی ایک گھر میں ٹیلی ویژن ہوتاتھا جہاں شام کے وقت ہم جا کے ڈرامہ دیکھا کرتے اور جب"گلی ڈنڈا" اور "بنٹے کھیلنا" مشہور زمانہ کھیل تھے تو "پولکا آئس کریم" کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ اسی دور کی بات ہے سال چھ مہینے گزرتے تو ایک سائیکل والا اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ  شہر میں وارد ہوتا سکول کے راستے میں بنے "ڈاک بنگلے" کے گراؤنڈ میں ڈیرہ لگاتا ایک دائرہ میں گھاس پھونس صاف کرتااور درمیان میں شامیانہ لگ جاتا اور ساتھ میں لاؤڈ سپیکر پر گانے بجنے لگ جاتے اس سائیکل سوار اور اس کے ساتھیوں کو لوگ "رنگیلا" کے نام سے پکارتے بس جی گراؤنڈ تیار ہونے کی دیر ہوتی رنگیلا صاحب اپنی سائیکل پر بیٹھتے اور سائیکل دائرے میں گھمانے لگ جاتے سپیکر پر اعلان شروع ہوجاتے کہ "رنگیلا ایک بار پھر آپ کے شہر میں" رنگیلا دن کے اوقات میں مختلف کرتب دکھاتا جو سکول ٹائم کے بعد ہماری واحد تفریح ہوتی، رنگیلا سائیکل پر رنگ برنگے کرتب دکھاتا،سائیکل پر ہی نہاتا، کپڑے بدلتا اور میوزک کی تال پر خود بھی جھومتا گاتا اور سائیکل کو بھی نچاتا پھرتا، اکٹھے ہونے والے لوگ اسے داد دیتے کوئی 2 اور کوئی ایک روپیہ اسے انعام دیتا،عام طور پر یہ کھیل دو سے تین دن جاری رہتا اور پھر مقامی انجمن تاجران کے کوئی "حاجی صاحب" یا پھر کوئی "نونی خان" ٹائپ مقامی کونسلر آتا اور سو پچاس روپے انعام میں دے کر اسے سائیکل سے اتارنے کی رسم ادا کر دیتا۔علاقے کا ایک سردار مقامی ایم پی اے تھا رنگیلے نے اعلان کیا کہ اب کی بار اس وقت تک سائیکل سے نہیں اترے گا جب تک "سردار صاحب" بنفسِ نفیس تشریف نہیں لاتے اور اسے انعام میں 5000 روپے دے کر سائیکل سے نہیں اتارتے وہ سائیکل چلاتا رہے گا اور بالکل بھی نیچے نہیں اترے گا، لوگوں کو معلوم تھا سردار صاحب جو کبھی الیکشن کے بعد نظر نہیں آتے "رنگیلے" کی رسمِ اترائی" ادا کرنے کب آئیں گے رنگیلے کی ضد سن کر اس سے پہلے آنے والے حاجی صاحب اور نونی خان بھی نہ آئے اور سردار صاحب نے تو آنا ہی نہ تھا۔ رنگیلے کا سائیکل چلا چلا کے برا حال تھا 72 گھنٹے گزر گئے تو کچھ لوگوں نے شہر کے مشہور چائے فروش "بشیرے" کو سو روپے دئیے اور اس نے جاکے رنگیلے کی"سائیکل اترائی"کی رسم ادا کر دی
گزشتہ چند روز سے ٹیلی ویژن سکرین دیکھتے دیکھتےرنگیلا بہت یاد آرہا ہے اورسوچ رہا ہوں دیکھوکب کوئی"بشیرا"جاتاہےاوران جھومتےگاتے "رنگیلوں" کو سائیکل سے اتارنے کی رسم ادا کرتا ہے۔

جمعرات، 7 اگست، 2014

سِکھوں کے گنے،طالب علم اور فیس بک کا لائک

1 comments
لوگوں کے سکھوں کے بارے میں لطیفے سن سن کر اور سکھوں کے بے وقوف ہونے کی باتیں کرتے دیکھ کر سکھ برادری سر جوڑ کے بیٹھی اور اس بات  پر سوچ بچار شروع ہوئی کہ کوئی ایسا کام یا کارنامہ سرانجام دیا جائے کہ لوگوں پر عقل مند ہونے کی دھاک بیٹھ جائے، برادری کے سرپنچوں نے طرح طرح کے مشورے دئیے، کافی بحث ومباحثہ ہوا اور طے یہ پایا کہ علاقے کے لوگوں کی بہتری کیلئے ایک سکول بنایا جائے جہاں بچوں کی مفت تعلیم کا بندوبست ہو مشورہ دینے والے کی خوب واہ واہ ہوئی اور اس سے پہلے کہ اجلاس برخواست ہوتا ایک "عقلمند سکھ" نے سوال کر ڈالا یہ سکول بنے گا آخر کہاں اور پھر یہ بات بھی طے ہوگئی کے علاقے کے ایک تگڑے "زمیندار سکھ" نے سکول کیلئے زمین دینے کا اعلان کر دیا ابھی اجلاس ختم ہوا ہی تھا اور سردارلوگ اپنے گھروں کو روانہ ہونے ہی کو تھے کہ ایک اور سرپنچ کے ذہن میں معلوم نہیں کیسے یہ بات آگئی کہ آخر زمین بھی مل ہی جائے گی لیکن سکول کی بلڈنگ بنانے کیلئے ایک اچھی خاصی رقم درکار ہو گی تو یہ بندوبست بھی کر کے ہی جایا جائے اور بالآخر سردار آپس میں سر جوڑے سکول کی تعمیر کیلئے فنڈ کے انتظامات کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے کہ درمیان میں ایک اور مسئلہ پیدا ہوگیا، گاؤں کے ایک بااثر سکھ نے دہائی دی کہ سردارو تم سکول تو بنا ہی لو گے لیکن دریا کے اس پار جو ہمارے مخالفین کا گاؤں ہے ناں ان کے بچے بھی اس سکول میں لازمی ایڈمشن لیں گے کیونکہ ہم سکول میں کسی کو بھی داخلہ لینے سے منع کرنے سے تو رہے اور اگر وہ یہاں سکول میں پڑھنے آئیں گے ناں تو تو واپسی پر ہمارے کماد کے کھیتوں سے گزرتے ہوئے گنے ضرور توڑ کے لے جائیں گے اور اس طرح ہماری فصل کا تو ستیا ناس ہو جائے گا سرپنچوں کے سربراہ نے فیصلہ دیا کہ سکول بنانے سے پہلے اس گاؤں کے بچوں سے نمٹ لیا جائے جو ہماری فصلوں کے دشمن بن کر ان کی تباہی کا سامان کریں ان کی خوب ٹھکائی ہونی چاہئیے۔ تمام سکھ کرپانیں سجائےدریا پار کے گاؤں پر حملہ آور ہوئے اور بچوں کا مار مار کر بھرکس نکال دیا جو بچانے کو آئے تو ان کو بھی خوب پھینٹی لگائی عورتوں نے ہاتھ جوڑے کہ آخر بتاؤ تو سہی ہم سے کیا غلطی ہو گئی  تو سکھوں کے لیڈر نے ترنگ میں آکر کرپان لہرائی اور کہا
 " ہور چوپو گنے"

بس جی ہم بھی فیس بک پر ایک سٹیٹس کو لائک کر کے "گنے چوپنے" کا مزہ کیا لے بیٹھے کہ اب "سرداروں" سے ہماری چھترل ہو رہی ہے، اور یار لوگ ہمیں دیکھتے ہی کہتے ہیں "ہور چوپو گنے"
نوٹ:اس پوسٹ کو کسی خاص پسِ منظر میں ہرگزنہ لیاجائے،ایسا کرنے والا نتائج کا خود ذمہ دار ہوگا
پنجابی سے اردو ترجمہ ہو چوپو (اور چوسو) ـــــــــــ گنے (گنڈیری)

بدھ، 25 جون، 2014

ماہِ مبارک

3 comments

اس کے قدموں کی چاپ دل کی دھڑکن کی طرح ٹھک ٹھک کرتی قریب سے قریب تر ہورہی ہے، وہ جو گزشتہ برس "دکھی" ہو کے چلا گیا تھا ایک بار پھر سے اپنی "رحمتوں" کے جام لڈھانے آرہا ہے،محبت سے پکارتے ہوئے، ایک آس لئے، اپنے بھرے دامن کے ساتھ ، بہت کچھ لٹانے کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن دکھ تو اس بات کا ہے کہ وہ جنہیں بہت کچھ دینے کو آتا ہے وہ منہ لپیٹے پڑے رہتے ہیں اور وہ جو بہت کچھ لٹانے آتا ہےوہ سب کچھ لئے پھر سے لوٹ جاتا ہے، وہ جو ہر سال آتا ہےاس سال بھی قریب سے قریب تر ہوتا جا رہا ہےآئیے اس کی دستک کی آواز کو سنیں، اس کی صدا پر لبیک کہیں،اس لئے کہ اگر ہم نے اب بھی اس کی آواز کونہ سنا اس کی پکار پر لبیک نہ کہا تو کون جانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب اگلے برس جب یہ ماہ مبارک آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہمیں نہ پائے
زندگی کے کس قدر قیمتی لمحات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنی مبارک ساعتیں
جب ہر آن اسی کا دھیان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب بولنا اسی کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب خاموشی بھی اسی کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب اضطراب میں تسکین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب بے چینی میں چین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب بھوک اور پیاس بھی عبادت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب منہ سے اٹھنے والی بدبو مشک وعنبر سے بھی قیمتی ٹھہرے
ہاں ایسے ہی مبارک لمحات کہ سنبھلنے والے کیلئے سنبھالنے والاخود اللہ رب العزت ہو
لیکن
ایسے میں باعثِ افسوس ہے اس کیلئے جس کیلئے رمضان کا چاند کچھ بھی نہ لایا،جس کیلئے سورج کا طلوع وغروب روزانہ کی روٹین ہی رہی، جو اپنے آپ کو چرتے پھرتے جانوروں سے الگ نہ کر پایا،جو اپنے اور ان کے درمیان کوئی فرق،کوئی امتیاز نہ کر سکا، نہ جس کے دن بدلے نہ دل بدلا، اور ایسی رحمتوں کی موسلا دھار بارش میں بھی جو اپنے دامن کو بھر نہ سکا
یہ ہمارا طرزِ عمل ہے جو ہمارے اور ہماری بھلائی کے درمیان حائل ہے، یہ ہم ہی ہیں جو رحمتوں سے اپنا دامن بھر نہیں پاتے،یہ ہمارے اعمال ہیں جو ہمیں ڈبو دیتے ہیں،ہماری کشتیوں میں پڑنے والے شگاف کسی اورکی نہیں ہماری اپنی غلطی کے باعث ہیں،الہامی ہدایات کے فانوس کو خاطر میں نہ لانے پر منظر سے پسِ منظر تک بس حیرانی ہی حیرانی اور وجود سے لپٹی تنہائی ہی رہ جاتی ہے۔ اصل کامیابی ان لوگوں کیلئے ہی ہے جو ٹھٹک کر رک نہیں جاتے،اکڑ کر تن نہیں جاتے بلکہ سراج منیر کی طرف پلٹ آتے ہیں، ان کا نام کچھ بھی ہو وہ کسی بھی خطّے سے تعلق رکھتے ہوں کامیابی انہیں کا مقدّر بنتی ہے
رمضان مبارک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یقیناً مبارک مگر کس کیلئے
ذرا رکئے اور سوچئے ہمارا شمار کن لوگوں میں ہو رہا ہے

جمعرات، 19 جون، 2014

ایک سال بیت گیا

5 comments
دن ہفتوں ،مہینوں اور مہینوں کو سالوں میں ڈھلتے دیر ہی بھلا کتنی لگتی ہے،19 جون 2013 سے 19 جون 2014 میرے بلاگ کو ایک سال مکمل ہوا
ابھی کل ہی کی تو بات ہےدوسروں کو بلاگنگ کرتے ہر طرف بلاگنگ کا شور سنتے ہم نے سوچا ہم کیوں پیچھے رہ جائیں ،سو ہم نے بھی شغل ہی شغل میں بلاگ بنا ڈالا، بلاگ بناتے وقت یہ تو سوچا ہی نہیں تھا کہ یہ "گلے کا ڈھول" بھی بن جائے گا جسے "بجانا" بھی پڑے گا لیکن اب کیا کیا جائے جب "ڈھول" گلے میں لٹکا ہی لیا تو پھر شرمانا کیسا سو ہم بھی لگے رہے ڈھول بجتا رہا اور اس کی "تھاپ" پہ "بھنگڑا" ڈالنے والے امڈ امڈ کے ہماری حوصلہ افزائی کوآتے رہے۔ بھنگڑا ڈالنے والوں کو دیکھتے، دل خوشی کے مارے بلیوں اچھلتا اور ہم مست ہو کے ڈھول بجاتے چلے گئے۔
19 جون 2013 کو بلاگ بنایا 20 جون کو پہلی پوسٹ ڈالی اور پھر تو یہ سلسلہ چلتا ہی چلا گیا۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملا، مطالعے کا شوق بڑھا، نئے دوست بنے ، عزت اور پہچان ملی۔
ایک سال میں ان سبھی 12583 افراد کا شکریہ جو میرے بلاگ پر تشریف لائے، ان 230محترم ہستیوں کیلئے سلامِ تشکر کہ جنہوں نے میری 38 بلاگ پوسٹس پر اپنے قیمتی کمنٹس کے ذریعے میری حوصلہ افزائی کی۔اسی دوراناردومنظر نامہنےایک بلاگر کی حیثیّت سے میرا انٹرویوشائع کیا جو بلاشبہ میرے لئے ایک اعزاز تھا۔
ایک سال پہلے بلاگ بناتے وقت یہ خیال دور دور تک بھی نہیں تھا کہ کبھی ایک سال بعد بلاگ کی سالگرہ کے حوالے سے کوئی تحریر لکھ رہا ہوں گا،ایک سال مکمل ہوا جو دل میں آیا لکھا پڑھنے والوں کی حوصلہ افزائی نے مزید لکھنے کا حوصلہ دیا اور آج جب ایک سال بعد یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو بلاشبہ یہ آپ کی محبّت ہی ہے جو میں اس قابل ہوا سو آپ سب کا شکریہ
 یہ "تحریر" آپ سب کے نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امید ہے اگلے برس بھی انشاءاللہ لکھنے اور پڑھنے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا

منگل، 3 جون، 2014

پہاڑی کا چراغ

3 comments
ایک ایسے دور میں جب لوگ کہیں لگی ہوئی آگ کو بجھانے کی بجائے اس کی فوٹیج بنانے، کسی ڈوبتے کو بچانے کی بجائے اس کی ویڈیو بنانے اور گرتی نعشوں کو سنبھالا دینے کی بجائے ان کی تصویریں بناتے پھرتے ہوں تو ایسے میں اگر کوئی شخص ایک بچے کو بچانےکیلئے اپنے آپ کو دریا کی موجوں کے حوالے کر دے تو یقیناً یہ بات اس پر صادق آتی ہے کہ وہ شخص تو "پہاڑی کا چراغ" ہے جو خود تو جلتا ہے اور جلتے جلتے اس کی زندگی تمام ہوجاتی ہے لیکن دوسروں کیلئے نشانِ منزل چھوڑ جاتا ہے
میں نے مظفر آباد میں دو نوجوانوں کو دریائے نیلم کی تندوتیز بپھری ہوئی موجوں میں گم ہوتے دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو جسم میں ایک سنسنی دوڑ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھلتی کودتی راستے میں آنے والی ہر چیز کو نیست ونابود کرتی بپھری موجیں 
اور دریائے کنہار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو ان دنوں اس قدر بپھرتا ہے کہ سینکڑوں جانیں اس کا لقمہ بن جاتی ہیں میں نے اس کی طغیانی بھی دیکھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کا سکوت بھی 
کراچی ۔۔۔۔۔۔ جی ہاں وہی جو کبھی روشنیوں کا شہرتھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی کراچی سے تعلق رکھنے والا شاہین صفت نصراللہ شجیح جو یقیناً "پہاڑی کا چراغ" تھا جو خود تو جلتا ہے لیکن دوسروں کو راستہ دکھاتا ہے۔

ذرا دیکھئے تو کس قدر اعتماد ہے اس ماں کے لہجے میں جس نے اپنے بیٹے کو نصراللہ شجیح کے حوالے کر دیا،یقیناً وہ اسی اعتماد کے قابل تھا 
"میں ارسل کو کبھی نہ جانے دیتی میں نے تو کبھی اسے گھر سے مارکیٹ تک نہیں بھیجا تھا تو اتنی دور ٹور پر کیسے جانے دیتی مگر جب اس نے آکر بتایا ماما ہمارے ساتھ سر نصراللہ جارہے ہیں تو میں ایک لمحہ کو بھی انکار نہ کرپائی کہ اب انکار کوئی جواز ہی نهیں بچا تھا وہ جو ایک باپ سے زیادہ حفاظت کرنے والے وہ جو بچوں پر شیر کی سی نگاہ رکھنےکے باوجود ان کے لیے سراپا محبت تھے اب میں بھلا کیسے انکار کرتی اور ارسل کے جانے تیاری کرنے لگی ۔۔۔ میں اکثر ارسل کی شرارتوں پر اسے دھمکی دیتی کہ کل ہی میں آتی ہوں اسکول شجیع بھائی کو بتاتی ہوں اور ارسل وہیں ایک دم ڈھیر ہوجاتا مما نہیں بس سر نصراللہ کو نہیں بس انکو نہیں شکایت کیجیے گا مما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ !!
جانے والا اپنے پیچھے کیسی یادیں چھوڑ گیا 
لیکن وہ گیا ہی کب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو ہماری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا
کہ وہ جو یادوں میں بس جاتے ہیں
کب جاتے ہیں
ہر آن ہمارے درمیان موجود
اسی طرح مصروفِ عمل
وہی پہلے کی طرح بھلائیاں بانٹتے ہوئے
ہم ان سے راہنمائی پاتے ہیں
ہم ان کی باتیں سنتے ہیں
انہی کی باتیں کرتے ہیں
ان کا زندگی بھر کا کام ہمیں زندگی بھر یاد دلاتا ہے کہ 
زندگی تو اسے کہتے ہیں
دنیا انہیں نگاہوں سے اوجھل پاتی ہے
لیکن
ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ہمارے درمیان موجود ہیں
ہمارے دکھ سکھ میں شریک
ہم تو ان کی ایک مسکراہٹ نہیں بھول سکتے
زندگی بھر کا احسان کیسے بھلایا جا سکتا ہے
وہ جو اپنا سب کچھ ہمیں سونپ گئے
اور پھر بھی خالی ہاتھ نہیں
ان کا زادِ راہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا اثاثہ
ہمسفری کی یہ جانی پہچانی روایت
قافلہ چل رہا ہو تو ایسے ہی ہوتا ہے
کہ کسی کا سنگِ میل  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  کسی کی منزل 

منگل، 27 مئی، 2014

دوتصویریں معاشرے کے البم سے

7 comments
پینٹ شرٹ میں ملبوس،آنکھوں پر Ray-ban کا چشمہ لگائے،کلین شیو، 50 کے پیٹے کا وہ آدمی میرے کلینک میں داخل ہوا تو پہلی نظر دیکھنے میں لبرل قسم کا آدمی لگا۔ یہ میری اور اس کی پہلی ملاقات تھی دو دن پہلے ہی میں نے اسے فون کیا تھا اس نے میری میز پر 50000 روپے رکھے اور بتایا یہ عشر کی رقم ہے میں نے "پھلائی" کچھ درخت
بیچےتوسوچااس کا عشر آپ کودےآؤں.میں(کہ جو"داڑھی" رکھ کر اپنے آپ کو بہت دین دارسمجھنے لگ گیا تھا)حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا، میری حیرانگی کو بھانپتے ہوئے کہنے لگےدرخت بھی زمین سے حاصل ہونے والی فصل ہی کی تو مانند ہوتے ہیں ناں اس لئے اس فصل پر بھی عشر لاگو ہوتا ہے اس لئے میری اس فصل کا عشر50000روپے بنتا ہے جو آپ "آغوش" کیلئے رکھ لیں میں نے ان کے نام کی رسید کاٹی اور ان کے حوالے کر کے شکریہ اداکیا تو ایک اور حیرت میری منتظر تھی
ڈاکٹر صاحب شکریہ کیسا یہ تو ایک فرض تھا جو ادا کیا گیا
شکریہ تو آپ کا جو ہمیں اس فرض کی ادائیگی کا موقع فراہم کرتے ہیں
اوروہ جانے کیلئے کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اوراپنے لئے بے پناہ احترام چھوڑ گئے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حاجی صاحب اپنے اہل وعیال کے ساتھ ایک طویل عرصے سے میرے پاس علاج معالجے کیلئے تشریف لاتے ہیں علاقے کے ایک بڑے زمیندار ہیں،میں نے سوال کیا کتنی گدم ہو جاتی ہو گی آپ کی فرمانے لگے کوئی دو ہزار بوری سے تو زائد ہی ہو جاتی ہوگی، میں نے عشر کے حوالے سے ایک بروشر ان کے پوتے کے ذریعے ان تک پہنچایا اور کچھ فیڈ بیک کیلئے ان سے رابطہ کیا تو فرمانے لگے جی ایک بیگ تو ہم پہلے ہی بھجوا چکے ہیں چلیں دیکھتے ہیں کوشش کرتے ہیں کہ آپ کیلئے بھی کوئی گنجائش نکل آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
کہاں تو درختوں کی پیداوار پر بھی عشر کی رقم اٹھائے مستحق تلاش کرتے لوگ اور کہاں دوہزار بوری سے زائد گندم پر بھی عشر کی ادائیگی میں پس وپیش
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کچھ ہی عرصہ بعد مجھے ایک  نواحی دیہات میں جانے کا اتفاق ہوا تو جنگل میں منگل کا سماں دیکھا دور تک پھیلی ہوئی چار دیواری کے ساتھ ساتھ میری گاڑی دیر تک محوِ سفر رہی پوچھنے پر معلوم ہوا یہ انہیں خان صاحب کی ملکیّتی زمین ہے جو میرے پاس کچھ عرصہ پہلے عشر کی رقم لے کے آئے تھے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اور آج جب میں نے حاجی صاحب سے ان کی فصلوں کی صورتحال کی بابت پوچھا تو فرمانے لگے بس جی ڈاکٹر صاحب اب کی بار تو حالات بہت خراب ہو گئے بارشوں سے کٹائی شدہ گندم تباہ ہوگئی بھوسہ سیاہ ہو گیا اور مشکل ہے کہ اخراجات بھی پورے ہو پائیں
بے شک سچ فرمایا اللہ رب العزت نے کہ
جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں،ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے7 بالیں نکلیں اور ہر بال میں 100دانے ہوں۔ اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے افزونی عطا فرماتا ہے۔ وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی سورہ بقرہ آیت261

اتوار، 11 مئی، 2014

مبارکباد یا تعزیت

12 comments

موبائل کی مسلسل "ٹنٹناتی" ہوئی میسج ٹون نے مجھے گہری نیند سے بیدار کر دیا تھا دیکھا تو رات کے سوا بارہ بج رہے تھے اور موبائل کی سکرین پر ایک سو سے زائد پیغامات اپنی آمد کا اعلان کر رہے تھے ان باکس کھولا تو معلوم ہوا آج میں اپنی عمرِ عزیز کے 39 سال پورے کر چکا ہوں مدّت سے سالگرہ منانا ہمارے معاشرے کی ایک اہم رسم بنتی جا رہی ہے، ذاتی طور پرمیں نے کبھی زندگی میں سالگرہ نہیں منائی نہ کبھی اس دن کو کوئی خاص ایکٹیویٹی پیشِ نظر رہی۔ میری تاریخ پیدائش11 مئی1975ہے۔ پوری زندگی میں ہر سال یہ دن آتا اور گزر جاتا، جس طرح سال کے باقی تمام ایام گزرتے ہیں نہ کبھی یہ خیال گزرا کہ سالگرہ کا دن آیا ہے ، نہ کبھی کسی نے یاد دہانی کرائی پہلی بار شاید میری بیگم نے مجھے شادی سے پہلے" سالگرہ مبارک" کا کارڈ بھیجا تھا لیکن اب توسالگرہ منانا  معاشرے میں ایک وائرس کی طرح پھیل گیا ہے آج   جب میری عمر39 برس ہو چلی تو کل سے دوستوں نے پیار بھرے پیغامات کا ڈھیر لگا دیا ہے کہ "مبارک ہو" میرے دوست احباب نے جس محبت و اپنائیت کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کیاوہ بلاشبہ باعث تشکر ہے،
صاحبو۔۔۔۔۔۔۔!!!!! ایک چھوٹا بچہ جب ایک سال یا دو سال کا ہوتا ہے تو فطری طور پر والدین کو ایک حسین سا احساس ہوتا ہے کہ نرم و نازک کلی، جس کے مرجھا جانے کے سو خطرات تھے، ایک پھول بن کر بہار دکھلا رہی ہے، تاہم اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ سرمایہءحیات جو ایک برف کی سِل کے مترادف ہے۔ مسلسل گھلتا اور پگھلتا چلا جا رہا ہے۔ ہر گھڑی منادی ہو جاتی ہے کہ مہلت عمل گھٹ رہی ہے بقولَ شاعر
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی
 ذاتی طور پر کبھی سالگرہ منائی اور نہ ہی منانا پسند کی ،اسکی شرعی حیثیت پرتو اہلِ علم ہی زیادہ بہتر تبصرہ کر سکتے ہیں،بہرحال زمانے کا چلن جو بن جاتا ہے، اچھے ، بُرے سبھی لوگ اس کی رو میں بہہ جاتے ہیں۔ یہی ہوتی ہے تہذیبی یلغار! سکولوں میں بچے اور بچیاں دیکھتے ہیں کہ ان کے دوست اور سہیلیاں برتھ ڈے مناتے ہیں تو اس دن کو نہ منانا وہ اپنی سُبکی سمجھتے ہیں اور اگر والدین اس رسم کے عادی نہیں ہوتے تو عموماً ان کے بچے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں یا پھر والدین کو مجبور کرتے ہیں کہ چلتی ہوا کے رُخ پر وہ بھی چلیں۔ ہاں وہ بچے جن کی اٹھان ہی اسلامی تہذیب کے اندر ہوئی ہو، گھر کے ماحول میں اسلامی طرزِ زندگی اور قرآن و سنت کی معاشرت کا چرچا ہو، صحابہؓ و صحابیاتؓ اور سلف صالحین کے واقعات سے نو خیز کلیوں اور غنچوں کو سیراب کیا جاتا رہے تو وہ کبھی احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہوتے۔ وہ وقت کے دھاروں کے ساتھ بہہ جانے کی بجائے اپنے اندر وقت کا دھارا موڑ دینے کی صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں، ہماری قومی تاریخ میں کسی عظیم شخصیت نے نہ سالگرہ منائی، نہ اسے ایک تقریب بنایا، کیک کاٹنا اور دیگر سارے نخرے مغربی تہذیب کی نقالی سے زیادہ کچھ نہیں کہ سالگرہ کی خوشی منائی جاتی ہے، چراغاں، رنگارنگ تقریبات اور بے شمار لغویات اس کے لازمی حصے ہوتے ہیںمغرب سے جہاں بہت سی فضولیات ہم نے وصولی سالگرہ انہی میں سے ایک ہے،بہرحال اب ہم "مومن" تو ہیں نہیں کہ ہر وقت"موت" کو یاد کرتے پھریں ،منافق ہیں اس لئے سال گرتے اور دوستوں کے پیغامات یاد دلاتے ہیں "موت" کی منزل مزید قریب ہوئی ،ہم جیسوں کو فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کچھ لمحوں کے لئے ہی سہی لیکن "سود وزیاں" پر غور کرنے کا موقع مل جاتا ہے ،اپنے حالات پر غور کرو تو دین کے رہے نہ دنیا  کے ،دنیا منہ سے چھوٹی نہیں اور جنّت کے "خواب" دن میں بھی دیکھتے پھرتےہیں ،سو ایسے کسی بھی موقع پر یاد دہانی سے کم از کم "گریبان" میں جھانکنے کا موقع ضرور مل جاتا ہے ،تو انکا شکریہ جنہوں نے دعاؤں میں یاد رکھا نیک تمنائیں دیں!!!!!!!
اور ان کا بھی " شکریہ" جو اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد نیک تمناؤں کا اظہار کریں گے !!!!! 
اور آخر میں بس ایک بات کہیہ زندگی برف کی طرح پگھل رہی ہے۔ ایک سال گزرنے پر معلوم نہیں، ہم مبارکباد کے مستحق ہوتے ہیں یا تعزیت کے! اس کا حساب تو ہر شخص خود ہی کر سکتا ہے
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟

منگل، 6 مئی، 2014

کیسا مسیحا

9 comments
وہ میرے سامنے کرسی پر بیٹھی زاروقطار روتے ہوئے ڈاکٹر کو بددعائیں دئیے جارہی تھی اس کے آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ساری طفل تسلیاں بے کار تھیں ساتھ آنے والی خاتون الگ سے پریشان تھی۔
چند دن پہلے ہی وہ خاتون میرے پاس گردے میں اٹھنے والے شدید درد کی دوا لینے آئی تھی دوا دینے سے درد تو وقتی طور پر ٹھیک ہو گیا لیکن مرض کی بہتر تشخیص کیلئے میں نے اسے چند ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا کیونکہ اس کے بقول یہ درد اس سے پہلے بھی اکثر بہت شدّت کے ساتھ ہوتا رہا تھا اور دس سال قبل تو ایک نیفرالوجسٹ کے مشورے پر ایک گردے میں پتھری کا آپریشن بھی کروا چکی تھی، اس لئے میں نے اسے Sonography اور KUB X.Ray کیلئے ایک اچھی شہرت کے حامل ڈائگنوسٹک سنٹر ریفر کر دیا۔دوسرے ہی دن مریضہ نے فون کرکے آنے کا وقت طے کر لیا۔اس کی رپورٹس میرے سامنے رکھی تھیں دائیں گردے میں پتھری کی نشاندہی کی گئی تھی

لیکن ساتھ ہی ایک عجیب بات تھی اس رپورٹ میں
Left Kidney absent

ڈائیگنوسٹک سنٹر کال کرکے متعلقہ سونالوجسٹ سے بات کرنے پر معلوم ہواکہ اس خاتون کا ایک گردہ آپریشن کے ذریعے نکال دیا گیا ہے، جب میں نے اس خاتون سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ ڈاکٹرنے یہی کہا تھا کہ گردے میں پتھری بن گئی ہے اور اس کا حل آپریشن کے سوا کچھ بھی نہیں اس نے ہمیں پتھری کے بارے میں اتنا خوفزدہ کیا کہ ہم مجبوراً آپریشن پر تیار ہوگئے


اور اس نے آپریشن کے بعد گردے سے نکلنے والی بتھری بھی ہمیں دکھائی


لیکن جب میں نے اسے بتایا کہ ڈاکٹر نے بذریعہ آپریشن پتھری نکالنے کی بجائے تمہارا گردہ ہی نکال دیا ہے تو اس نے زاروقطار رونا شروع کر دیا
 خاتون رو رہی تھی اور اس ڈاکٹر کو بددعائیں دے رہی تھی کہ میں نے اسے کسی وکیل سے مشورے کے بعداس ڈاکٹرکے خلاف مقدمہ کرنے کا مشورہ دیا تو اس نے ایک حیرت انگیز انکشاف کیا کہ کچھ عرصہ قبل ہی ٹریفک کے ایک حادثے میں اس ڈاکٹرکی گاڑی کو آگ لگ گئی اور جل کر راکھ ہوگیا۔بعد ازاں معلوم ہوا کہ اس ڈاکٹر نے متعدد مریضوں کی پتھری کو آپریشن کے ذریعے نکالنے کے بہانے ان کا ایک گردہ نکال لیا۔
اپنی عارضی خوشیوں کیلئے لوگوں کی زندگیوں کو جہنّم بنا دینے والا ناجائز طور پر کمائی جانے والی اپنی ساری دولت دنیا میں ہی چھوڑ کر اس دنیا میں ہی جہنم واصل ہو گیا

................................................................................

................................................................................
.